سچ بات؛ارشاد حسین ناصر
ایران امریکہ دشمنی ایک ایسا موضوع ہے جسے اس وقت بھی سوشل میڈیا کے بہت سے ذرائع پہ بہت ہی عمومی انداز او ر منفی پراپیگنڈا کے طور پہ لیا جاتا ہے،خصوصی طور پہ جب سے حماس نے اسرائیل کے ساتھ پنجہ آزمائی کی ہے تو بہت سے نیٹ ورکس سے تسلسل سے ایران کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے،اس میں وہ لوگ ملوث ہیںکہ جن کا اپناکردار ہمیشہ امریکی و اسرائیلی مقاصد کی تکمیل اور ان کی آرزوئوں کو پورا کرنے کا باعث چلے آ رہا ہے ،اور ان کے اقدامات حماس،فلسطینی مقاومت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہیںسوال یہ ہے کہ یہ لوگ کون ہیں اور کن مقاصد کے تحت پراپیگنڈا کرتے ہیں کہ ایران اور ایران سے مربوط مقاومتی گروہوں کو تسلسل سے نشانہ بنایا ہوا ہے ، ان کا تعلق کسی خاص جماعت،مکتب فکر یا ایران دشمن ممالک سے ہے؟کیا یہ لوگ جہاد و ایثار گری اور اسلام کو عالم گیر مذہب کے طور پہ نفاذکیلئے ایساکرتے ہیں یا پس پردہ کچھ اور ہے؟
حماس نے ساتھ اکتوبر کو اسرائیل میں گھس کے جو تاریخی کاروائی کی اس کے بعد حماس کو جس رد عمل کا سامنا کرنا تھا ا س میں حماس و فلسطینیوںکو دنیا بھرمیںمختلف فورمز پہ مدد،تعاون،نصرت کی ضرورت تھی لہذا وہ تما م ممالک اور گروہ جن سے اس مدد کی توقع تھی ان کی طرف سے شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا،جیسے ترکیہ میںصدر اردووان کو فلسطینیوںکا مدد گار و اخوان کے رہنما کے طور پہ پیش کیا جاتا تھاجس سے حماس کے تانے بانے ملائے جاتے ہیں،مگر اردوان نے حماس کی کسی قسم کی مدد نہیںکی اب تک کا ریاکرڈ دیکھا جا سکتا ہے کہ ترکیہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے،ا س کاواضح ثبوت ترکیہ میں اپوزیشن جماعت کے رہنماءوں نے صدر اردوان کو اس حوالے سے سخت سنائیں ہیں،اسیطرح فلسطین کیساتھ جن مسلم مالک بالخصوص مصر،اردن،لبنان کی سرحدیںملتی ہیں ان کی طرف سے جو رویہ اختیار کیا گیا وہ بھی سب کے سامنے ہے،ہاں البتہ لبنان سے حزب اللہ نے حماس کے ساتھ ساتھ لبنان کے مختلف سرحدی مقامت پہ فرنٹ کھول رکھے ہیں جو مسلسل اپنے جوانوںکو قربان کر رہے ہیں اور ممکنہ حد تک اسرائیل کو نقصا ن بھی پہنچا رہے ہیں،ادھر شام جہاں اسرائیل کی جانب سے اس کی جولان کی پہاڑیوں پہ قبضہ چل اآ رہاہے اس طرف سے شام میں موجود مقاومتی گروہوں نے بھی کئی ایک کاروائیاں کیں اور اسرائیل کو الجھانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں،سب جانتے ہیں کہ شام سے ہونے والی کوئی بھی کاروائی شامی حکومت سے زیادہ ایرانی سپاہ پاسداران کی کارروائی ہی متصور ہوگی،جس کا واضح ثبوت یہ ےکہ اسرائیل نے شام میں جتنے بھی فضائی حملے کیے ا ن میں شامی حکومتی اہلکاروںکو نہیں بلکہ شام میں موجود ایرانی مفادات کے نگران مراکز ،ایرانی سپاہ پاسداران کے کمانڈرز اور حالیہ حملہ قونصلیٹ جس میں ایران کےاعلی کمانڈرز جو شہید سلیمانی کے قریبی ساتھی تھے انہیں نشانہ بنایا ہے لہذا شام میں شام پہ حملہ نہیں ہوتا،بلکہ شام میں ایران پہ حملہ ہوتا ہے۔
اگر ہم اپنے اس سوال کی طرف آئیں کہ آخر ایران منفی پراپیگنڈہ کا شکار کیوں تو اسکی واحد وجہ جمہوری اسلامی ایران کا مظلومین غزہ و فلسطین کی کھل کے حمایت،مدد اور علانیہ امداد ہے یہ امداد مالی،طبی،اخلاقی سے بڑھ کے فوجی بھی ہے جس کا کوئی اظہار نہیں کرتا کہ عالمی سطح پہ پابندیاں لگا دی جاتی ہیں ایران تو پینتالیس برس سے پابندیوں کا عادی ہے انہی پابندیوںمیں اس نے اپنی فوجی و دفاعی ترقی کے مینار کھڑے کیے جس کے باعث امریکہ و اسرائیل کو اس پہ ڈائریکٹ حملہ کی جرءا ت کبھی نہیں ہو سکی،مگر امریکہ اپنے اتحادی ممالک کیساتھ مل کے اسرائیل کی مکمل سرپرستی کرتا آ رہاہے ،اسرائیل کے ہر ناجائز اقدا م کے پیچھے امریکہ ہی ہوتا ہے۔
ایک لمحہ کیلئے یہ تصور کر لیںکہ ایران امریکہ،ایران اسرائیل اندر سے ملے ہوئے ہیں توپھر ہزاروں سوالوں کے جواب کون دے گا،بالخصوص جب سے انقلاب آیا ہےا یران مسلسل امریکی پابندیوں کا شکار رہاہے،اس کی شخصیات پہ سفری پابندیاںہیں،اس کے بینکوں سے لین دین نہیں ہو سکتا،اس کے ساتھ تجارت کرنے والی کمپنیوں اور ممالک کو بھی پابندیوں کا شکار کیا جاتا ہے،اس کو کسی بھی قسم کا فوجی ساز و سامان دینے والے کو بلیک لسٹ کر دیا جاتاہے،جبکہ اس کے مد مقابل ہم دیکھتے ہیں کہ وہ دہشت گرد تنظیمیں جو کوئی مملکت نہیں رکھتیں جن کی قیادتیں خفیہ ہیں ان کے لڑاکوں کو جدید اسلحہ،بہترین یونیفارمز،تربیتی مراکز،ذراءیع رسل و رسائل،اور کھل کے اپنے دہشت گردانہ اقدامات اٹھانے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہے اس وقت بھی آپ دیکھیںکہ امریکہ شام میں کن پہ حملے کر رہا ہے،شام میں ایران کی حمایت یافتہ مقاومتی بلاک کی قوت جنہوںنے شام کو داعش کے ہاتھوں سے چھینا اور اسرائیل و امریکہ کی بھاری انوسیٹمنٹ پہ پانی پھر دیا،یہی تو آئے روز نشانہ بن رہے ہیں،جبکہ اسی شام میں ادلب اور دیگر بہت سے ایریاز میں تحریر الشام،جو القایدہ کا ایک متبادل ہے اور اس سے وابستہ گروہ جن کا تعلق شیشان،ازبکستان،چین،افغانستان سے ہے ان کے مراکز بھی چل رہے ہیں ان کے پاس بھی جدید اسلحہ ہے،جنگجو ہیں جو اپنے ممالک سے بڑی آسانی کیساتھ یہاں پہنچ چکے ہیں،ایسے میں جب ایران نے فلسطینیوںکی بھرپور مدد و سر پرستی کا بیرا اٹھا رکھا ہے یہ لوگ آزاد ہیں ایران و شامی حکومت کے خلاف اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے اقدامات اٹھانے میںان کو کوئی روک ٹوک نہیں۔ امریکہ و اسرائیل کو ان سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں جبکہ داعش بھی اپنی تما م تر قوت کیساتھ ان علاقوںمیں اپنے وجود کا اظہار کرتی آ رہی ہے،حالیہ دنوںمیں ہی داعش نے تحریر الشام کا ایک اہم کمانڈر بم دھماکے میں مارا ہے،گویا ان کے قبضہ کی باہمی لڑائی جاری ہے مگر ایران،شام،حزب اللہ کے خلاف انکے اقدامات میں اشتراک بھی ہو جاتا ہے،ان کے نزدیک ایک صیہونی کے مقابل ایک شیعہ کا قتل زیادہ اہم ہوتا ہے،یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اسرائیل کو چھوڑ کے شامی حکومت،ایرانی مفادات،حز ب اللہ،مقاومت عراق کیساتھ مسلسل الجھاءو رکھتے ہیں،داعش،جیش العدل نامی گروہ نے انہی چھ مہینوںمیں ایران میں داخلی طور پہ بھی کئی ایک منصوبوں پہ عمل کیا ہے ،تاکہ ایران کو داخلی محاذ پہ ہی مصروف رکھاجائے اور وہ اپنا عالمگیر کردارا ادا نہ کر سکے،سیستان و بلوچستان،کرمان اور ایران کے دیگر مقامات پہ بعض تخریبی کاروائیاں در اصل اسرائیلی خفیہ تنظیم اور اس کے کارندوں کی کوششوں کا حصہ ہیں،سوال یہ ہے کہ اگر ایران و اسرائیل ملے ہوئے ہیں تو پھر اسرائیل کو ایسے اقدامات کروانے کی کیا ضرورت ہے،اسیطرح شام میں تسلسل سے اسرائیلی فضائیہ نے ایرانی سپاہ پاسداران کے لوگوں کو نشانہ بنایا ہے جو بطور فوجی مشیر شام میںموجود ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب دہشت گرد گرو اور ان کے سر پرست ممالک کو سخت مایوسی کا سامنا ہے،اسلیے کہ اہل فلسطین ،حماس،اسلامی جہاد و دیگر اپم گروہ ہمیشہ ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں،ہر ایک اہم موقعہ پہ فلسطینیوںکی جانب سے ایرانی قیادت و حکومت کا شکریہ ادا کیا گیا،اور ایس لگتا ہے کہ حماس و اسلامی جہاد مسلسل ایرانی و مقاومتی قیادت سے رابطوظکے ذریعے مکمل رہنمائی لیتے ہیں،مشترک منصوبہ بندی اور باہمی اعتماد کرتے ہیں ،یہ عمل تکفیری مائنڈ سیٹ اور اس کے سرپرست ممالک و اداروں کو قطعا نہیںبھاتا جس کے باعث ایران،حزب اللہ،یمنی انصار اللہ،مقاومت عراق کے خلاف جھوٹ و افترا ء پر مبنی پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے ،حد تو یہ ے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت ہے جو اپنے تئیں جہاد کی برکات کا نتیجہ ہے مگر طالبان کے کسی ایک اہم رنماور رہنما کی ان چھ مہینوںمیں کوئی خاص اقدام یا بیان بھی سامنے نہیں آ یا،اسیطرح تحریر الشام جو القایدہ کا نیا نام ہے اس کی طرف سے بھی اہل فلسطین کی مد د و اسرائیل کے خلاف عملی جہاد کا اعلان کرنے کا اب تک کاانتظار ہے پھر بھی یہ تکفیری مائنڈ سیٹ ایران و اس سے وابستہ جہادی تنظیموں کی جانب سے ان چھ مہینوں میں ایسے ایسے اقدامات و قربانیاں پیش کی گئی ہیں،جن سے اسرائیل کو شدید ترین نقصان اٹھانا پڑا ہے،بالخصوص یمنیوں کے جرات مندانہ اقدامات نے اسرائیل و امریکہ کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔
سوا ل تو یہ بھی بنتا ہے کہ اگر ایران و امریکہ و اسرائیل ملے ہوئے ہیں تو امریکہ و اسرائیل کے اقدامات،پابندیاں ایران کے خلاف کیوں ہیں یہ اقدامات و پابندیاں تو، ترکیہ،سعودیہ،امارات،قطر،اردن،مصر،بحرین،کے خلاف ہونے چاہیے تھے،جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں لہذا یہ متعصابہ سوچ کو حرف غلط کی طر ح مٹا دینا چاہیے جو پینتالیس برس سے پابندیوں کے شکار مملکت کو اپنے منفی پراپیگنڈا کا شکار کرتے آ رہے ہیں،اس پراپیگنڈا کے زریعے ایران کو فتح کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جو کبھی نہیں ہوگا۔