پیغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کی وفات کے
بعدجدید تشکیل یافتہ اسلامی معاشرے کو سب سے اہم درپیش مسئلہ آنحضرت صلي اللہ
عليہ وآلہ وسلم کی جانشینی کا مسئلہ تھا ایک گروہ نے بعض بزرگ اصحابِ پیغمبر کی
رائے کے مطابق حضرت ابوبکر کو بعنوان خلیفہ رسول قبول کر لیا، لیکن دوسرے گروہ
کاعقیدہ تھا آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق، حضرت علی عليہ
السلام آپ کے جانشین ہیں۔ بعد میں پہلا گروہ عامہ یعنی اہل سنت و الجماعت اور
دوسرا گروہ خاصہ یعنی شیعہ کے نام سے مشہور ہوا۔
یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ شیعہ و سنی کے درمیان اختلاف
تنہا اس بات پر نہیں ہے کہ آپ کے بعد آپ کا جانشین کون تھا صرف پیغمبر اکرم صلي
اللہ عليہ وآلہ وسلم کی جانشینی نہیں بلکہ ان میں سے ہر گروہ کے نقطہ نظر کا
دوسرے سے "امام" کے معنی و مفہوم اورامام کے کردارکے حوالے سے بہت زیادہ
اختلاف پایا جاتا ہے اور یہی اختلاف ان دو مذاہب کو ایک دوسرے سے جداکرتاہے۔
ہم اس موضوع کی وضاحت کے لئے "امام اور امامت"
کے معنی واضح کرتے ہیں تاکہ دونوں کے نظریات واضح ہو جائیں ۔
لغوی اعتبار سے "امامت" کے معنی پیشوائی اور
رہبری کے ہیں اور ایک معین راہ میں کسی گروہ کی قیادت اور رہبری کرنے والے ذمہ دار
فرد کو امام" کہا جاتا ہے۔
دینی اصطلاح میں امامت کے مختلف معنی بیان کئے گئے
ہیں۔اہل سنت کے نظریہ کے مطابق "امامت"دنیاوی حکمرانی کا نام ہے (نہ کہ
الٰہی منصب کا) کہ جس کے ذریعے اسلامی معاشرے کی سرپرستی کی جاتی ہے اور جس طرح ہر
معاشرے کو رہبر اور قائد کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح اسلامی معاشرے کیلئے بھی ضروری
ہے کہ پیغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے بعد اپنے لئے ایک ہادی اور رہبر کا
انتخاب کرے۔اورچونکہ اس انتخاب کے لئے دین اسلام میں کوئی خاص طریقہ معین نہیں کیا
گیا تو پھر پیغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کی جانشینی کے لئے مختلف طریقوں
کو اپنایا جاسکتا ہے۔ مثلا عوام الناس یا بزرگوں کی اکثریت کی رائے یا گزشتہ
جانشین کی وصیت کے مطابق یا بغاوت اور فوجی طاقت کے بل بوتے زبردستی حاکم بننے
والا شخص خلیفہ یا امام کہلاسکتا ہے۔