منگل  ،21 اپریل  ،2026ء   |   روزانہ کی حدیث
’’جو شخص اپنے برادر مؤمن پر تہمت و بہتان لگائے وہ اہل دوزخ ہوگا۔‘‘(امام جعفر صادق علیہ السلام) ( ( بحارالا نوار: ج 75، ص 260، ح 58))
Image

عورت کی وراثت مرد سے آدھی کیوں؟

عورت کی وراثت مرد سے آدھی کیوں؟

عورت کی وراثت مرد سے آدھی کیوں؟

  • سید حسنین عارف

عورت کی وراثت مرد سے آدھی کیوں؟

تحر یر و تالیف: مولانا شیخ کاظم  رضا

یہ بھی اسلام مخالف مکاتب اور مرد اور عورت کے درمیان ہر طرح کی برابری کے قائلین کے پاس ایک بہانہ ہے اسلام پر حملہ کرنے کا کہ اسلام نے عورت کی شخصیت کو نظر انداز کیا ہے ۔کیوں عورت جو کمزور ہے کو ایک حصہ اور مرد جو خود کما سکتا ہے کو دو حصے ملتے ہیں؟

جواب دینے سے پہلے اس نقطے کی وضاحت ضروری ہے کہ عورت کا حصہ آدھا ہونا قاعدہ کلی نہیں ہے بلکہ بعض مقامات پر مرد اور عورت کا حصہ برابر ہے جیسا کہ میت کے ماں اور باپ کہ دونوں کا حصہ مساوی ہے۔

یہی سوال جب امام صادق علیہ السلام سے کیا گیا کہ عورت جو کمزور ہے اور مالی تعاون کی محتاج ہے کو  وراثت میں کم حصہ کیوں دیا گیا ؟تو امام علیہ السلام نے جواب دیا: چونکہ ایک مرد کے پاس زیادہ کام اور بھاری ذمہ داریاں ہوتی ہیں مرد کو جہاد پر جانا پڑتا ہے اور اس سلسلے میں کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے مرد کو اپنے اخراجات کے علاوہ بیوی کے اخراجات بھی کرنے ہوتے ہیں مرد عاقلہ[1] میں سے بھی ہے لہذا اس کو اپنے اقرباء کے غیر عمدی جرائم میں مالی تعاون کرنا پڑتا ہے جبکہ عورت کے ایسے فرائض نہیں ہوتے۔( اصول کافی جلد 7 صفحہ 85 )

امام صادق علیہ السلام سے ہی ایک اور روایت میں اس نقطے پر تاکید کی گئی کہ مردوں کی طرف سے عورتوں کو حق مہر دینا وراثت کی کمی کو پورا کرتا ہے(علل الشرائع، شیخ صدوق، جلد 2، صفحہ 57)

اسلام کے ارثی قوانین فی الواقع عورتوں کے حق میں ایک بہت بڑا انقلاب ہے وگرنہ زمانے جاہلیت میں تو عورتوں کو  وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا۔

یہ جو بظاہر مرد کی وراثت عورت کی وراثت سے ڈبل ہے ایک لحاظ سے عورتوں کی وراثت ڈبل ہے۔ مرد کے کاندھوں پر جو ذمہ داریاں ہیں اس کے مطابق مرد کی آدھی کمائی تو بیوی پر خرچ ہو جاتی ہے جبکہ اپنے اور اپنے بچوں کے خرچے بھی اسی کے ذمے ہیں درحالیکہ عورتوں کی ایسی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

عورت کا وراثت میں کم حصہ ہونا اس سبب سے نہیں ہے کہ اسلام کی نگاہ میں اس کی ارزش اور ویلیو کم ہے بلکہ عورت اور مرد کی اقتصادی و اجتماعی ذمہ داریوں کی وجہ سے یہ تفاوت ہے نیز دونوں کے مال میں تعادل قائم کرنے کے لیے اس کا حصہ کم رکھا گیا ہے ۔

مثال اگر دنیا میں مثلا کل 30 ارب روپے ہوں جو مردوں اور عورتوں میں آہستہ آہستہ وراثت کے طور پر تقسیم ہوں تو ان میں سے 20 ارب مردوں کو، 10 ارب خواتین کو ملے گا ۔خواتین و  بچیوں کا خرچہ حسب معمول شادی سے پہلے باپ کے ذمے اور شادی کے بعد شوہر کے ذمے ہے لہذا خواتین اپنے 10 ارب بچا کر رکھ سکتی ہیں اور مردوں کے 20 ارب میں شریک ہو سکتی ہیں جن میں سے 10 ارب انہی پر خرچ ہونا ہے نتیجه یہ ہوا کہ ان کو 20 ارب ملے مردوں کو 10 ارب ۔

عورتوں کی وراثت میں کمی کی تین طرح کی وجوہات ہیں۔

 الف: حق مہر ۔

ب: نفقہ۔

ج: مردوں سے مختص دیگر ذمہ داریاں جیسے جہاد میں شرکت اور جان کے ساتھ ساتھ مالی تعاون کرنا اقربا کی دیت میں حصہ ڈالنا۔

واضح رہے کہ اسلام نے یہ قوانین مرد یا عورت کی طرفداری میں اور دوسرے کے خلاف نہیں بنائے۔ بلکه اسلام نے یہ قوانین مرد عورت اور ان کے دامن میں پرورش پانے والے بچوں اور پورے عالم بشریت کی سعادت کے لیے بنائے ہیں مرد اور عورت کی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائے ہیں ۔

سوال: (مردوں کی طرف سے) اگر عورت کے اخراجات مرد کے ذمے ہیں تو اسے مال اکٹھا کرنے کی کیا ضرورت ہے، حق مہریا وراثت میں اتنا بھی حصہ لینے کی کیا وجہ ہے؟

جواب: حق مهر یا وراثت میں اس کا حصہ اس کی بچت ہے، اگر ممکنہ طور پر اپنے شوہر سے علیحدہ ہو جائے یا بیوہ ہو جائے تو اپنی زندگی کے امور کو چلانے کے لیے کچھ سرمایہ رکھتی ہو تاکہ اپنی زندگی کو عزت اور سکون سے گزار سکے۔

واضح رہے کہ اگر عورت کو بعض مسائل کی وجہ سے زیادہ تعاون کی ضرورت ہو تو اس کا باپ یا شوہر اپنی زندگی میں اس کو کچھ مال ہدیہ کر سکتے ہیں یا یک سوم مال (جس میں حق  وصیت رکھتے ہیں) کی اس کے حق میں وصیت کر سکتے ہیں۔



[1]      اسلامی قوانین میں سے ایک عاقلا کا قانون ہے یعنی اگر کوئی شخص کسی کو غلطی سے قتل یا زخمی  کر دے تو اس مقتول یا مجروح انسان کو دیت تو دی جائے گی لیکن وہ دیت جنایتکار کے عزیز و اقارب ادا کریں گے اسی کو عاقلا کہتے ہیں۔

کمنٹس

کمنٹ لکھیں

براہ کرم نوٹ کریں، منظوری کے بعد کمنٹ شائع کیے جائیں گے۔