تحریر و تالیف: مولانا شیخ کاظم رضا
حساس لوگوں میں بعض مثبت فکر و خیال اور تعمیری ذہن و دماغ کے حامل ہوتے ہیں ، وہ ہر کام میں مثبت پہلو ڈھونڈ نکالتے ہیں ، نامساعد حالات و واقعات میں بھی انہیں خیر کا پہلا نظر آجاتا ہے، وہ قنوطیت کی تاریکیوں میں اُمیدوں کے چراغ روشن کر لیتے ہیں ، ایسے لوگ زندگی کے کسی موڑ پر ناکام نہیں ہوتے ،بڑے سے بڑے مسائل ان کی کامیابی کے سفر میں رکاوٹ نہیں بنتے، وہ ہمیشہ خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں ۔کسی کی خوشی یا کسی کی کامیابی ان کے اندر حسد و کینہ پیدا نہیں کرتی، وہ نقد بے جا سے بھی پرہیز کرتے ہیں ، بد ظنی و بدگمانی کے گناہ سے بھی محفوظ رہتے ہیں ۔
دوسری جانب انسانوں کا ایک طبقہ ، منفی فکر و خیال کی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوتا ہے، منفی سوچ کی یہ بیماری ان کے ذہن و دماغ کو کمزور کر دیتی ہے، ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے، ان کے فکر و خیال کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے، کائنات کی وسعتیں ان کے لیے تنگ ہو جاتی ہیں ، ایسے لوگوں کی دنیا بہت چھوٹی ہوتی ہے، منفی سوچ کے حامل افراد کو کسی میں اچھائیوں سے زیادہ برائیاں اور خامیاں نظر آتی ہیں۔ قرآن کریم اس طرح کے سوء ظن اور بدگمانی سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :
’’ اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان یقیناً گناہ ہیں اور تجسسّ بھی نہ کیا کرو۔‘‘(الحجرات:۱۲)
اپنے برادر مومن کے بارے میں ہمیشہ حسن ظن رکھنا اسلامی تعلیمات میں نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔دوسروں کے بارے میں حسن ظن رکھنا اپنے باطن کی پاکیزگی، اچھی سوچ اور اچھی خصلت کا مالک ہونے کی علامت ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کا ارشاد ہے:
’’اپنے بھائیوں کے بارے میں حسن ظن رکھو تو دلوں کی صفائی اور طبعیت میں نمو آجاتی ہے۔‘‘(مستدرک الوسائل ۹: ۱۴۵)
حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے :
’’حسن ظن افضل ترین خصلت ہے اور وافر ترین عنایت ہے۔‘‘(مستدرک الوسائل ۱۱ : ۲۵۲)
بد گمانی کے اسباب
گندی اور غلیظذہنیت، گستاخانہ و متعصبانہ روایہ ، غیر اخلاقی خیالات ، تخریبی رحجانات، نفرت و عداوت، طنز و توہین ، شک و شبہہ ، دھوکا وفریب ، ذہنی انتشار و انتشار پسندی ، افسردگی و مایوسی ، بے رغبتی ولا پرواہی ،:حوصلہ شکنی ، عدم اطمینان، عدم تحفظ ، عدم استحکام، عدم یقین ، عدم تعاون وغیرہ اوصاف منفی سوچ و فکر کے حامل لوگوں کے اندر بدرجۂ‘ اتم پائے جاتے ہیں ۔ دراصل منفی سوچ ڈر، خوف، شکست ، ناکامی ، نا امیدی ، غصہ ، بدمزاجی، مایوسی ،پریشانی ، غیبت ، چغل خوری ، کینہ ، بغض ، حسد ، تعصب اور دوسروں کو نیچا دکھانے یا ذلیل کرنے کی خواہش کا نتیجہ ہوتی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے :
’’برے لوگوں کی ہمنشینی اچھے لوگوں سے بدگمانی کا سبب بنتی ہے۔ ‘‘(مستدرک الوسائل ۸: ۳۲۸)
در اصل بدگمانی منفی طرزِ فکر کی پیدا وار ہے جب کہ حسن ظن مثبت فکر و خیال کا لازمی تقاضٗا ہے۔ مثبت و فکرو خیال کا حامل شخص کبھی بھی بدگمانی میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔
سوء ظن کے نقصانات
ترقی کی راہ میں رکاوٹ
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ مثبت سوچ کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے اور انسان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرتی ہے، جب کہ منفی فکر رکھنے والے لوگ ہمیشہ تذبذب کے شکار ہوتے ہیں، کسی بھی مسئلے میں وہ صحیح نتیجے تک پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں اور غلط نتیجے اخذ کر کے اپنی زندگی تباہ و برباد کر لیتے ہیں، ہمارے گرد و پیش ایسے بے شمار لوگ ہوتے ہیں جن کے منفی رویوں سے ان کی پہچان آسانی سے ہو سکتی ہے، وہ کسی پروجیکٹ کو شرو ع کرنے سے قبل ہی خدشات اور امکنات کے بھنور میں پھنس کر قدم پیچھے ہٹا لیتے ہیں، ہر کام میں انہیں ناکامی کا ڈر ستانے لگتا ہے، وہ مفادات سے زیادہ مضرات پر غور کرتے ہیں۔
رشتوں کی پامالی کا باعث
منفی سوچ رکھنے والے افراد رشتوں کو نبھانے میں اکثر ناکام رہتے ہیں ، بدظنی اور بدگمانی ان کی گھٹی میں پڑی ہوتی ہے، وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے خطرناک نتائج نکال لیتے ہیں،مثلاً ایک منفی سوچ رکھنے والا شخص اپنے دوست کو فون کرتا ہے ، اتفاقاً وہ باتھ روم میں ہوتا ہے، باہر آکر آفس جانے کی عجلت میں اپنے دوست کے فون کو بھول جاتا ہے، آفس کے کاموں کے دوران پھر فون آتا ہے، لیکن آفس کے اصول وقوانین کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے وہ فون ریسیو نہیں کر پاتا، ادھر منفی سوچ رکھنے والا دوست کئی کئی طرح کی بدگمانیا دل میں پیدا کر لیتا ہے ، وہ سوچتا ہے کہ میرا دوست مجھے اہمیت نہیں دے رہا ہے، جان بوجھ کر میرے فون کو نظر انداز کر رہا ہے۔
شوہر اور بیوی کے مابین تعلقات کی ناخوشگواری میں بھی منفی سوچ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدگمانیوں کا بڑا دخل ہوتا ہے، جو کبھی ایک دوسرے پر اعتماد کی کمی پھر لڑائی اور بالآخر طلاق اور جدائی تک پہنچ جاتی ہے۔ غلط اور منفی سوچ سگے بھائیﷺں اور بہنوں میں دشمنی ، ساس بہو میں لڑائی کا باعث بنتی ہے۔
لہٰذا اگر کبھی کوئی شکوہ ہو تو براہِ راست رابطہ کریں ،شیطانی اثرات سے پیدا ہونے والی بدگمانی کی وجہ سے کوئی منفی خیال دل میں نہ بسائیں ، اچھے تعلقات اور رشتے داریاں اللہ کی نعمت ہیں ، ان کو اس طرح پامال کرنا نعمتوں کی ناقدری کے مترادف ہے۔
تخریب کو فروغ
منفی سوچ رکھنے والے تعمیری فکر سسے کوسوں دور ہوتے ہیں ، ایسے لوگ کسی سماج میں ہوں یا کسی تحریک و تنظیم میں ، وہ ہمیشہ نقد بے جا کے عادی ہو جاتے ہیں، ہر معاملے میں ان کی تنقید کا نشتر چلتا رہتا ہے جو ماحول کو پراگندہ کرنے اور تخریبی عناصر کو فروغ دینے میں اہم کرددار ادا کرتا ہے ، ایسے افراد ہزاروں خوبیوں کے بیچ چھپی ہوئی معمولی خامیوں کو بھی ڈھونڈ نکالتے ہیں ، پھر ان بے شمار خوبیوں کا چرچا کرنے کی بجائے اس خامی کو ہائی لائٹ کر کے خوبیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ، منفی فکر والے دنیا میں تو مبغوض رہتے ہی ہیں دنیا سے رخصت ہوتے ہوتے بدنامیوں کا تمغہ بھی ساتھ لیے جاتےہیں۔
ذہنی و جسمانی بیماریوں کا باعث
منفی سوچ اور جذبات جسمانی و داماغی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔جو لوگ منفی سوچ رکھتے ہیں ان میں بیمار رہنے کا امکان زیادہ ہوتے ہے۔اسی طرح جو لوگ خوش رہتے ہیں اور ہر بات کو مثبت نظریے سے دیکھتے ہیں وہ خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔آج کل بے شمار لوگ منفی سوچ کی وجہ سے ذہنی دبا(Stress)، ذہنی تناؤ (Tension)، ذہنی انتشار (Mental Disturbances)وغیرہ میں مبتلا ہیں۔ طبّی تحقیقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ منفی سوچ رکھنے والے دل کی بیماریوں میں بھی کثرت سے مبتلا ہوتے ہیں ۔اسی طرح منفی سوچ رکھنے والے لوگ عموماً اداسی، غم ، غصہ، خوف، دباؤ اور تناؤ جیسی کیفیات میں مبتلا ہوتے ہیں جو جگر اور معدہ کی خطرناک بیماریوں کا باعث ہیں، ذہنی دباؤ آپ کے دماغ اور دل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ فالج کے شکار ہونے والے اکثر افراد ذہنی تناؤ میں میں مبتلا ہوتے ہیں۔
ایک کامیاب انسان کے لیے اس کے خیالات کا مثبت اور پاکیزہ ہونا انتہائی ضروری ہے ، حسن ظن انسان کو بہت ساری دشواریوں سے بچاتا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ مثبت فکر و خیال کے حامل رہیں ، منفی سوچ اور منفی سوچ والوں سے دور رہیں کیونکہ اچھی سوچ سے اچھے نتائج اور بُری سے بُرے نتائج ظاہرتے ہیں۔