سوال: اسلام میں لڑکی کی شادی کے لیے ولی (باپ یا دادا) کی اجازت ضروری ہے؟ کیوں؟آیا یہ لڑکی کی آزادی کو سلب نہیں کرتا؟ جواب:جو بلند مقام، مرتبہ ،
عزت اور احترام اسلام نے ایک عورت کو عطا کیا ہے وہ کسی اور مکتب نے عطا
نہیں کیا ہے جس دور میں لڑکی پیدا ہونے پر باپ کا سر شرم سے جھک جایا کرتا تھا بانی
اسلام (ص) اپنی بیٹی کے احترام میں کھڑے ہو جایا کرتے تھے اسلام نے عورت کو ماں جیسا
عظیم مقام عطا کیا جس کے قدموں تلے جنت کو قرار دیا اگرچہ اولاد بیٹا ہی کیوں نہ
ہو ۔ پروردگار قران کریم میں عالم حقیقت و عالم آخرت میں مرد اور عورت کی مساوی حیثیت
کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: جواب:جو بلند مقام، مرتبہ ،
عزت اور احترام اسلام نے ایک عورت کو عطا کیا ہے وہ کسی اور مکتب نے عطا
نہیں کیا ہے جس دور میں لڑکی پیدا ہونے پر باپ کا سر شرم سے جھک جایا کرتا تھا بانی
اسلام (ص) اپنی بیٹی کے احترام میں کھڑے ہو جایا کرتے تھے اسلام نے عورت کو ماں جیسا
عظیم مقام عطا کیا جس کے قدموں تلے جنت کو قرار دیا اگرچہ اولاد بیٹا ہی کیوں نہ
ہو ۔ پروردگار قران کریم میں عالم حقیقت و عالم آخرت میں مرد اور عورت کی مساوی حیثیت
کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
جو کوئی بھی نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مؤمن ہو تو ہم اسے (دنیا) میں پاک و پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق عطا کریں گے۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے تو اس کے جواب میں سب سے پہلے تو یہ کہ یہ حکم کلی نہیں ہے بلکہ کنواری لڑکی( دوشیزہ، باکره) کے ساتھ مختص ہے یعنی اگر بیوہ یا مطلقہ دوسری شادی کرنا چاہے تو باپ یا دادا کی اجازت کی ضرورت نہیں۔(چونکہ مطلقہ یا بیوہ ایسے تجربہ سے گزر چکی ہے جس نے اس کو میچور بنا دیا ہے نیز اب اس کا معاملہ لڑکوں کی طرح ہو گیا ہے یعنی اگر وہ اب اپنے فیصلے میں غلطی بھی کرتی ہے تو اس کا وه نقصان نہیں ہوگاجو پہلی دفعہ غلطی کرنے پر ہوتا ہے۔)
اسی طرح اگر باپ یا دادا کا انتقال ہو چکا ہو یا ان سے اجازت نہیں لی جا سکتی ہو چونکہ وہ بہت عرصے سے غائب ہو چکے ہیں او ران کی کوئی خبر نہیں ہےدرحالیکہ لڑکی کے لیے شادی کرنا ضروری ہے یا دیوانے ہیں یا کوئی نشہ کرتے ہیں تو ان سے اجازت لینا ضروری نہیںیہ سب اس لیے ہے تاکہ لڑکی کا حق ضائع نہ ہو۔ اب رہا یہ سوال کہ کنواری لڑکی کیوں اجازت کی محتاج ہے کیوں وہ اپنی مرضی سے شادی نہیں کر سکتی؟ واضح رہے کہ کنواری لڑکی کی شادی اس کی مرضی کے بغیر نہیں کی جا سکتی یعنی اگر لڑکی راضی نہیں اور وہ انکار کر دے تو باپ یا دادا اپنی مرضی سے لڑکی کی کہیں شادی نہیں کر سکتےاور اگر کر دیں تو یہ نکاح باطل ہوگا یعنی شادی کے لیے دونوں کی مرضی کا شامل ہونا ضروری ہے۔ یہ حکم اسلامی، لڑکی کی آزادی کو سلب کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسلام کے سنہری اصولوں میں سے ہے اور حکمت کے عین مطابق ہے ۔اگر آپ نفسیاتی اعتبار سے اس مسئلے کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ صنف نازک پر احساسات اور جذبات کا غلبہ ہوتا ہے جو کہ اس کے لیے ضروری ہے چونکہ اسی کو بچوں کی پرورش کی ذمہ داری نبھانی ہے درحالیکہ مردوں پر شهوت کا غلبہ ہے۔لہذا معمولا لڑکیاں مردوں کی طرف سے محبت بھرے جذبات( در واقع شہوت بھرے جذبات) کے اظہار میں جلد بہک جاتی ہے اور عاقلانہ نگاہ سے اپنے مستقبل کو نہیں دیکھتیں اور کسی شہوت ران کی ہوس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں ۔ جس کے نتیجے میں وه معاشر میں بی صرف اپنی حیثیت کھو بیٹھتی ہیں بلکہ ساری رندگی کے لیے ان کا دامن ایسا داغدار ہو جاتاہے کہ پھر ساری زندگی اپنے دامن کو اس سے پاک نہیں کرسکتیں۔ (ہمارا معاشره ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے)
ثانیا: لڑکیوں میں اجتماعی معاملات سے دوری کی وجہ سے( چونکہ اسلام نے مصلحت کے تحت خواتین کو گھروں میں ره کرگھریلو ذمہ داریاں ادا کرنے کو ترجیح دی ہے) مردوں کو پرکھنے اور ان میں سے مخلص، محبت کرنے والے، وفادار افراد کو ہوس رانوں سے تشخیص دینے کی صلاحیت کم ہے۔ واضح رہے کہ اجازت صرف باپ یا دادا کی ضروری ہے جو کہ عام طور پر ایک لڑکی کے لیے مردوں میں سے سب سے زیادہ مہربان،دلسوز اور نرم گوشہ رکھنے والے رشتے ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ لڑکوں پر یہ پابندی کیوں نہیں صرف لڑکیوں کے لیے ہی یہ پابندی کیوں ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اولا: جیسا کہ پہلے گزر چکاہے کہ یہ پابندی نہیں بلکہ لڑکیوں کے حقوق اور ان کے مقام اور ویلیو کے تحفظ کے لیے یہ حکم دیا گیا ہے۔ ثانیا: لڑکا اور لڑکی کی نفسیات مختلف ہیں جیسا کہ اس کا ذکر بھیگزر چکا ہے۔ ثالثا: اگر خدانخواستہ لڑکی کسی ہوس باز کی چکنی چڑی باتوں میں آکر بہک گئی یا حتی شادی کے بعد طلاق ہو گئی تو معاشرے میں اس کی ویلیو تقریبا ختم ہو جاتی ہے کوئی کنوارہ لڑکا اس سے شادی کرنے پر تو راضی نہیں ہوگا یہاں تک کہ ایسے افراد جنہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے یا ان کی بیوی انتقال کر چکی ہے اور وہ دوسری شادی کرنا چاہیں تو بھی ان کی اولین ترجیح(First Priority)ایک کنواری لڑکی ہی ہوتی ہے اور بعض مرد تو حتی بیوہ یا مطلقہ سے شادی کرنے پر ہرگز تیار نہیں ہوں گے چہ جائے کہ زانیہ سےدرحالیکہ مردوں میں معاملہ یوں نہیں ہے۔ آزادی نسواں کے حقوق کے جعلی علمبردار اور برابری کے نعرے لگانے والے فی الواقع فاسد اور ہوس ران لوگ ہیں جو اس طریقے سے اپنی ہوس پوری کرنا چاہتے ہیں یعنی فی الواقع یہ وہ بھیڑیے ہیں جو معصوم بھیڑوں کو چیر پھاڑ کر کھانا چاہتے ہیں وگرنہ ان کو کسی غریب و بے سہارا لڑکی سے کوئی ہمدردی نہیں ہے یہ عورت آزادی مارچ کے نام پر میرا جسم میری مرضی جیسے بے حیائی پھیلانے والے نعرے تو لگاتے ہیں لیکن ان کو معاشرے میں عزت دار مقام دلانے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے گھریلو زندگی میں عورتوں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے انہیں ماں جیسی حقیقی عظمت عطا کرنے،وراثت میں ان کو شرعی حصہ دلوانے ونی اورغیرت کے نام پر قتل سے بجائے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔