جمعه  ،05 جون  ،2026ء   |   روزانہ کی حدیث
’’جو شخص اپنے برادر مؤمن پر تہمت و بہتان لگائے وہ اہل دوزخ ہوگا۔‘‘(امام جعفر صادق علیہ السلام) ( ( بحارالا نوار: ج 75، ص 260، ح 58))
Image

بے قراری سے اطمینان تک،شہادت مبارک

بے قراری سے اطمینان تک،شہادت مبارک

بے قراری سے اطمینان تک،شہادت مبارک

سچ بات؛ارشاد حسین ناصر


کبھی کبھی عجیب لمحے آ جاتے ہیں،وقت کا دامن جو کبھی بھی انسانی گرفت میں نہیں رہااپنی ریت کو برقرار رکھتے ہوئے ہاتھ سے جاتا رہتا ہے،جب جمہوری اسلامی ایران کے محبوب صدر آیۃ اللہ ابراہیم رئیسی اور ان کے ہمراہان کی گم شدگی اور ہوائی ایکسیڈنٹ کی خبر آئی تو ایسا ہی لگ رہا تھا کہ وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے،اگرچہ سانحہ کی نوعیت سے یہ سمجھ آ چکی تھی کہ ہمارا باغ کا باغبان اجڑ گیا ہے،ہم لٹ چکے ہیں،ہم ایک بار پھر اپنے محبوب سے محروم ہو چکے ہیں،ہماری آنکھوں کا نور،ہماری بینائی جاتی رہی ہے،مگر محبت کا تقاضا تھا کہ دل کو مطمئن کرتے تھے کہ ابھی کوئی معجزہ کی خبر آ جاءے گی،مختلف خیالات رات بھر ستاتے تو خود سے یہی کہتےایسا نہیں ہو گا،وہ ضامن آہو کے دربار کی دربانی کر چکے ،ان کیلئے دنیا بھر کے علاوہ اہل ایران نے محبت کے جو چراغ روشن کیے تھے اور دعائوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے،مناجات کے سلسلے ملک کے طول و عرض میں جاری ہوئے ایسا ہی لگتا تھا کہ ایک بار پھر اپنی قوم میں ہونگے،اتنے لاکھوں بلکہ کروڑوں دلوں کی آواز اور صدا کو پروردگار سن لے گا،مگر وقت کی رفتار بہت تیزی سے اس جانب بڑھتی رہی جس طرف اندیشوں کو عملی شکل میں دیکھا جا سکتا تھا۔۔۔اور پھر ایسا وقت آ گیا۔۔۔ جب گلشن کے اجڑنے اور باغبان کے بچھڑنے کا یقین کر لیا گیا،بس پھر کیا تھا کہرام برپا ہو گیا،نیند تو پہلے ہی اڑ چکی تھی ، اتنا گریہ،اتنا دکھ،اتنا غم ،اتنا درد کہاں سے آ گیا تھا یہ ابھی تک سمجھ نہیں پایا،ان شخصیات کے ساتھ ذاتی وابستگی ان کی زندگی میں تو اس قدر والہانہ اور جذباتی نہیں تھی،ان سے محبت و عقیدت کے سلسلے کب قایم ہو گئے تھے پتہ نہیں چلا،پھر کیا وجہ تھی کہ ایسا لگ رہا تھا کہ میت ہمارے اپنے گھرمیںہوئی ہے،جدا ہونے والے ہمارے اپنے تھے،ہمارے جسم کا حصہ،ہمارے بہت ہی قریبی،ہاں مجھے یاد آیا کہ ۔۔۔۔ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا تھا۔۔ اس سے قبل کئی بار ہم ایسی کیفیات سے دوچار رہے ہیں،بالخصوص شہید قاید علامہ سید عارف الحسینی اور شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی المناک شہادتوں کے مواقع جبکہ شہید القدس،مدافعین حرمین کے سپہ سالار ،مالک اشتر ولی امرالمسلمین جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کا دن بھی بہت گراں گزرا تھا،اس وقت بھی ہم ایسی ہی کیفیات سے دوچار تھے،دیواروں سے سر ٹکراتے تھے،بلند آہنگ گریہ تھا،جو بھی سامنے آتا تھا اس کے گلے لگتے اور گریہ بلند کرتے تھے،آج بھی ایسی ہی کیفیت سے دوچار تھے،کس کو گلے لگائیں کس کو تعزیت کریں،کس کو حوصلہ دیں،کس کو انقلاب کی قربانیوں کی طویل تاریخ یاد کروائیں ،بس ایسی ہی کیفیات رہیں،انہی کیفیات سے دوچار ہم رہبر معظم کی ذات گرامی بارے فکر کر رہے تھے کہ اس عمر میں ہمارے ولی امر کو اتنا بڑاا دکھ اورغم ملا ہے نہ جانے کیا کیفیت ہو گی۔۔۔۔مگر وہ ایک جہانی رہبر ہیں،ان کی زمہ داریاں جہانی ہیں وہ ایک جہانی شخصیت کے مالک ہیں لہذا ان کا پیغام بھی جہانی ہی ہوتا ہے،شہید آقا رئیسی ،وزیر خارجہ محترم حسین امیر اعبدللہیان ،گورنر تبریز مالک رحمتی،اور امام جمعہ تبریز  سید محمد علی آل ہاشم و ہمراہان کا نقصان یقینی طور پہ ناقابل تلافی ہے،ان کی کمی کبھی بھی پوری نہیں ہو سکتی،ان کا کردار،ان کی خدمات،ان گنت زحمات،بے شمار قربانیاں،مظلومین ومحرومین بالخصوص اہل فلسطین،اہل غزہ کیلئے ان کے اقدامات،امت کے اتحاد،جہاد فی سبیل اللہ،حرمین شریفین کے دفاع مقدس،بذات خود جمہوری اسلامی و نظام اسلامی تقویت و مضبوطی کیلے ان کا لازوال کردار کبھی فراموش نہیںکیا جا سکتا اس سب کو دیکھیں تو یہ اس وقت انقلاب کی برجستہ ترین شخصیات تھیں،پھر بھی یہ انقلاب اپنے اول روز سے ایسے بے شمار رہبر و رہنما اور انقلاب کے ستون راہ خدا میں استقامت کی وجہ سے کھو چکا ہے،مگر اپنے راستے اور روش کو ترک نہیں کیا،اپنی منزل کو نہیں بھولے،اپنی ہدف سے پیچھے نہیں ہٹے،اپنے کردار کو ادا کرتے اورمنزل کی جانب بڑھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

کوئی شک نہیں کہ ہم ایسے دکھ و غم میں ہیں جس کا اظہار ممکن نہیں اور ہم سمجھ رہے ہیں کہ یہ انقلاب اسلامی،نظام اسلامی و مقاومت ، و امت اسلامی کا بہت برا نقصان ہے مگر اس حقیقت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب ہم راہ خدا میںکام کر رہے ہوتے ہیں،رو رو شہادت طلبی کرتے ہیں،گڑ گڑا کے دعائیں مانگتے ہیں کہ کربلا کے شہدا کے راستے پہ ہمیں بھی شہادت سے سرفراز فرما،ہم میں سے ہر ایک تشنہ شہادت اور راہ شہادت کا طلبگار ہوتا ہے تو اس مادی دنیا کے ساتھ ایک معنوی دنیا ہے جہاں ہمارا اخلاص جانچا جا رہا ہوتا ہے،ہماری دعائیں پہنچتی ہیں تو انہیں شاید تولا جا رہا ہوتا ہے،ہمارا اخلاص عمل کا پیمانہ ناپا جا رہا ہوتا ہے،ہمارے الفاظ،ہمارے اوزان دیکھے جا رہے ہوتے ہیں اور اس معنوی دنیامیں شاید اسی کو قبولیت سے نواز جاتا ہے جو مکمل خالص ہوتا ہے،جس کا کردار و عمل ریا و دکھلاوے سے بالا تر ہوتا ہے،جو دل کی واقعی گہرائی سے شہادت طلبی کرتا ہے،جو قلب کی گیرائی سے تشنگی محسوس کرتا ہے،جو اخلاص کے اعلی درجے سے پکارتا ہے ،اور یہ بات تو ہم دیکھ چکے ہیںکہ ہمارے عظیم شہدا ء جیسے آقای ابراہیم رئیسی و ہمراہان نہایت ہی خاص لوگ تھے،ان کی معنوی و روحانی کیفیات اس درجہ کو پہنچ چکی ہوتی ہیں کہ انہیں اب اس مادی دنیا سے اس ابدی مقام ارفع کی جانب سفر کرنا ہی تھا،یہ ہم ہیں جو شاید سمجھ نہیں پاتے،ایسی شخصیات ہمارے آس پاس ہوتی ہیں ہم ان کیساتھ اٹھتے بیٹھے،کھاتے پیتے ہیں،ان کیساتھ ہم کاری کرتے ہیں مگر ہم درک نہیں کر پاتے،ہمیں اس وقت ادراک ہوتا ہے جب وہ اپنے مقام و مرتبہ کو حاصل کر لیتی ہیں،ان شہدا ء کیساتھ ہماری وابستگی ،ان سے محبت،ان سے لگاءو ،ان سے عقیدت کا پیمانہ وہ نہیں تھا جو ان کی گمشدگی کی رپورٹ آنے کے بعد محسوس ہوا،اور شہداء کی خبر آنے کے بعد تو یہ پیمانہ محبت چھلک پڑا،ہم ان شخصیات سے اتنا لگاءو رکھتے تھے کہ ہمیں ان کے چلے جانے کا دکھ اپنا دکھ محسوس ہو رہا ہے،ہم بھی اسی راہ کے راہی ہیں ،اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمارے اعمال و کردار میں بھی اتنا خلوص پیدا کر دے کہ ہم اس حقیقی مقام و مرتبہ کو پا لیں جو شہدا ء  عظیم و کریم کا مقام ہے،ہماری ان سے محبت کو اور بڑھا دے کہ ان کی محبت،ان کے اخلاص و عمل سے محبت ہے،ان کے مقامو مرتبہ الہی سے محبت ہے اس مھبت کی بدلولت ہم بھی اسی ہدف و منزل کی جانب بڑھنا چاہیں گے ،اسی مقام و منزل کو پانا چاہیں گے جو راہ خدا میں اخلاص عمل کے قبول ہونے والوں کا مقام و منزل ہے۔ایک دوست نے یہ حدیث نقل کی ہے اس کے مطابق بھی ہمارا ان شہدا ء کیساتھ ملحق ہونا ان سے محبت کا محتاج ہے،لہذا چراغ محبت کی لو کو تیز کرنے کی ضرورت ہے،تب ہی کامیابی ملے گی۔

مَنْ أَحَبَّ قَوْماً حُشِرَ مَعَہُمْ وَ مَنْ أَحَبَّ عَمَلَ قَوْماً اُشْرِکَ فِی عَمَلِھِمْ۔ (مستدرک الوسائل ۱۲:۱۰۸ باب تحریم الرضا بالظلم)

جو کسی قوم سے محبت کرے وہ اس کے ساتھ محشور ہو گا اور اگر کوئی کسی قوم کے عمل کو پسند کرے تو وہ بھی اس میں شریک ہے۔

شہادت شہادت۔۔سعادت سعادت

حسین حسین شعار ہے۔۔شہادت افتخار ہے



کمنٹس

کمنٹ لکھیں

براہ کرم نوٹ کریں، منظوری کے بعد کمنٹ شائع کیے جائیں گے۔