منگل  ،21 اپریل  ،2026ء   |   روزانہ کی حدیث
’’جو شخص اپنے برادر مؤمن پر تہمت و بہتان لگائے وہ اہل دوزخ ہوگا۔‘‘(امام جعفر صادق علیہ السلام) ( ( بحارالا نوار: ج 75، ص 260، ح 58))
Image

کعبے میں ولادت (دوسرا حصہ)

کعبے میں ولادت (دوسرا حصہ)

کعبے میں ولادت (دوسرا حصہ)

  • سید حسنین عارف

کلیدی کلمات: ولادت، کعبے میں ولادت،حضرت علی(ع)، حضرت فاطمہ بنت اسد(س)،

خلاصہ: یہ مقالہ بنیادی طور پر حضرت علی علیہ السلام کی کعبے میں ولادت کے متعلق لکھا گیا ہے۔ اس میں ولادت سے قبل، دوران ولادت اور ولادت کے بعد کے حالات کو تاریخی منابع کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ ولادت سے قابل حضرت عبدالمطلب اور حضرت ابو طالب کو خواب آنا ، ولادت سے پہلے حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کی اپنے بیٹے کے متعلق دعا وغیرہ کا ذکر اسی طرح دوران ولادت کے کچھ احوال جیسا کہ جناب فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کا کعبے کی طرف جانا ، وہاں اسی مولود کے واسطے سے دعا کرنا، دیوار کعبہ کا شق ہونا اور بی بی کو راستہ دینا اور وہاں موجود افراد کی حیرت و پریشانی کو حدیثی و تاریخی منابع کے ساتھ لکھا گیا ہے ۔ تین دن کعبے میں قیام کے دوران جنت سے کھانے کا آنا ، جتنی خواتین کی خصوصی آمد ، حضرت ع کا جنم لیتے ہی سر سجدے میں رکھ کر خدا کی حمد و ثنا کرنا ، کعبے میں موجود بتوں کا منہ کے بل گر کر ٹوٹ جانا، انبیاء و ملائکہ حضرت کی ولادت پر تبریک کے لیے تشریف لانا اور ولادت کے بعد حضرت ع کا رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھوں پر صحف انبیاء علیہم السلام و قران مجید کی تلاوت کرنے جیسے واقعات کو اس مقالے میں جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ولادت

13 رجب 30عام الفیل خانہ خدا کعبے کے اندر  آپؑ کی ولادت ہوئی۔ آپؑ نےاپنا سر سجدے میں رکھا اور اپنے خالق کو سجدہ کیا اور پھر اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا اور فرمایا ؛

أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللهِ، وَ أَنَّ عَلِيّاً وَصِيُّ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ بِمُحَمَّدٍ يَخْتِمُ اللهُ النُّبُوَّةَ وَ بِي يُتِمُّ الْوَصِيَّةَ وَ اَنَا اَميرُ الْمُؤْمِنِينَ(میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ ایک ہے اور حضرت محمد صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ کے رسول ہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ بے شک علی ؑ  رسول خدا کے وصی اور جانشین ہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ کی آخری نبی ہیں اور گواہی دیتا ہوں آپ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جانشینی میرے ذریعے کمال تک پہنچی اور میں ہی امیر المومنین ہوں )۔اور پھر فرمایا ؛جاء الحق و زھق الباطل[1]۔

  جیسے ہی آپؑ کی ولادت ہوئی تو کعبے میں موجود تمام بت منہ کے بل زمین پر گر پڑے اور شیطان کی آہ و بکار شروع ہو گئی ۔جیسے ہی آپؑنے اپنا سر سجدے سے اٹھایا تو اپنا رُخ ان  جنتی خواتین کی طرف کیا اور انہیں سلام کیا اور خیر مقدم کہا اور انہیں مخاطب کر کے فرمایا   لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ  وحدہ لا شریک لہ و أَنَّ مُحَمَّدا رَسُولُ اللَّهِ، بِهِ تَخْتِمُ النَّبُوَّةُ وَ بِي تَخْتِمُ الْوِلايَةُ اس کے بعد حضرت حوّا سلام اللہ علیہا نے اس مولود کو اٹھایا اور اپنی اغوش میں لیا۔ جیسے ہی حضرت حوا سلام اللہ علیہا نے آپؑ کو اٹھایا تو آپؑ نے ان کی طرف رخ کر کے فرمایا ہے اے مادر گرامی آپؑپر سلام ہو تو حضرت حوا سلام اللہ علیہا نے  فرمایا ؛ میرے فرزند آپؑپر بھی سلامتی ہو۔ اس کے بعد  آپؑ نے مادر موسی سلام اللہ علیہا حضرت مریم سلام اللہ علیہا حضرت آسیہ سلام اللہ علیہا حضرت سارہ  سلام اللہ علیہاکو بھی سلام کیا اور مختصر گفتگو کی، اس کے بعد وہ خواتین وہاں سے تشریف لے گئیں ۔[2]

انبیاء علیہم السلام کا  زیارت کے لئے آنا

کچھ ہی دیر بعد چند اور نورانی ہستیاں کعبے میں وارد ہوئیں جیسے ہی مولا ؑنے انہیں دیکھا تو مسکرائے ۔سب نے آپؑ کو سلام کیا اور کہا  ؛اے ولی خدا ور جانشین پیامبر صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپؑ پر سلام ہو۔ حضرتؑ نے سب کا جواب دیا اور پھر الگ الگ سب کو سلام کیا۔ ان میں حضرت آدم  علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام شامل تھے ۔  سب نے نو مولودکو اپنے آغوش میں لیا اور بوسہ دیا اور آپؑکی مدد و ثنا بیان کی ۔

حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا؛ اے علیؑ اگر آپؑ اور آپؑکے بھائی حضرت محمد صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ ہوتے تو خداوند متعال میری توبہ قبول نہ کرتا اور فرمایا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے آپؑکی زیارت کا موقع عطا کیا ۔

حضرت نوح علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ؛ خدا کا شکر ہے کہ آپؑ دنیا میں تشریف لائے اگر آپؑ اور آپؑ کے بھائی رسول خدا صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ ہوتے تو خداوند متعال میری کشتی کو طوفان سے نجات نہ دیتا ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آپؑ کو اٹھایا اور بوسہ دیا اور فرمایا ؛اے علیؑ اگر آپؑ اور آپؑ کے بھائی رسول خدا صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ ہوتے تو مجھے آتش نمرود سے نجات نہ ملتی ۔

پھر حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا ؛اے علی ؑاگر آپؑ اور  رسول خدا صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ ہوتے تو پروردگار طور پر میرے ساتھ ہمکلام نہ ہوتا۔

 اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا؛ اے علیؑ اگر آپؑ اور رسول خدا صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وسیلہ نہ ہوتا تو میں مٹی سے پرندہ بنا کر اسے زندہ کرنے ، مادرزاد اندھے اور برص کی بیماری والوں کو شفا دینے کی سکت نہ رکھتا ۔[3]اس  کے بعد انبیاء علیہم السلام نے آپؑسے خدا حافظی کی۔

فرشتوں کا آنا

حضرت فاطمہ بنت اسدسلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ کچھ ہی دیر بعد پروں کی پھڑپھڑاہٹ آوازیں آنا شروع ہوئیں اور یہ فرشتوں کے پروں کی آوازیں تھیں میں نے دیکھا کہ سفید بادل کی طرح نور کا ایک ٹکڑا وہاں آیا اور بچے کو  اپنے ساتھ آسمان کی طرف لے گیا اور ساتھ ہی ایک آواز سنائی دی کہ جس میں کہا گیا ؛علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو شرق و غرب، خشکی ،دریاؤں ، بیابانوں ، پہاڑوں اورآسمانوں کی سیر کراؤ۔ اسے انبیاء و مرسلین  علیہم السلام و صدیقین کے علوم و اخلاق سے اراستہ کرو اور جو امور اس کے بھائی سید الانبیاء صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے انجام دیے گئے ہیں وہی اس کے لیے انجام دو ۔اسے تمام انبیاء و مرسلین ملائکہ و مقربین اور تمام اہلِ زمین و آسمان کے سامنے پیش کرو تاکہ وہ جان سکیں کہ یہ اللہ کا برحق ولی ہے ۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ ابھی ایک گھنٹے سے بھی کم وقت گزرا تھا کہ علیؑ کو واپس لایا گیا جیسےہی  واپس لایا گیا تو ابر کا ایک اور ٹکڑا آیا اور پھر اسے اپنے ساتھ لے گیا اس بار پکارنے والے نے یوں پکارا ؛علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو تمام مخلوقات کے سامنے پیش کرو نیز  علم و  زہد ، پرہیزگاری و  سخاوت ، عزت و نورانیت ، تواضع  و خشوع ،  رقت و ہیبت ،  مروت ، اخلاق و کرم ، مودت و شفاعت ، دیانت و قناعت ، فصاحت و پاکیزگی ، عدل و مساوات  ، کرم و جود  حتی تمام اخلاق حسنہ کو اسی عطا کرو ۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ کچھ دیر بعد میرے بیٹے کو حریر کے   سفید رنگ کے جنتی کپڑے میں لپیٹ کر واپس لایا گیا اور مجھے کہا گیا؛ اسے حاسدوں کے حسد سے محفوظ رکھو اور جان لو کہ جو بھی اس کی ولایت و امامت کا اقرار نہ کرے وہ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہو سکتا اور خوش بخت ہے وہ شخص کہ جس نے اس کی اطاعت کی، اس کی مثال کشتی نوح کی طرح ہے کہ جو اس میں سوار ہو گیا اس نے نجات پائی اور جو پیچھے رہ گیا وہ غرق ہو گیا ۔پھر  اس مولود کے کان میں کچھ الفاظ کہا کہے گئے جسے میں سمجھ نہیں پائی اور پھر وہ نوروہاں سے غائب ہو گیا۔[4]

کعبے سے باہر آؤ

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ میں تین دن اور تین راتیں کعبے کے اندر رہی۔ چوتھے دن صبح کے وقت مجھے وہاں سے باہر جانے کے لیے کہا گیا میں نے بچے کو آغوش میں لیا اور کعبے سے باہر آئی ،اسی دوران ہاتف غیبی سے اواز آئی ؛اے فاطمہ سلام اللہ علیہا اس بچے کا نام علی رکھو کیونکہ میں اعلی ہوں اور یہ علی ہے ۔ میں محمود ہوں اور میرا حبیب محمد صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے ۔بے شک ان دونوں کے نام میں نے اپنے ناموں سے اخذ کیے ہیں اور دونوں کو اپنے نور سے خلق کیا ہے۔  مجھے قسم ہے اپنی عزت و جلالت کی کہ میں نے اپنے ولی کے نام کو اپنے نام سے عرض کیا ہے اور یہی  وہ پہلا شخص ہے کہ جو مجھ پر ایمان لائے گا اور میرے پیغمبر صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کرے گا اور میری حمد و ثنا بیان کرے گا ۔اس مولود نے میرے گھر میں جنم لیا ہے ۔ یہی وہ ہے کہ جو کعبے میں پہلی بار اذان دے گا اور بتوں کو منہ کے  بل گرائے گا اور یہیں پیغمبر صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصی و جانشین ہے۔ جان لو کہ جنت اس کو نصیب ہوگی کہ جو اس سے محبت کرے گا اور جو اس سے بغض رکھے اور اس کی مخالفت کرے اور اس کی ولایت کا انکار کرے جہنم اس کا ٹھکانہ ہے اور یہ پیغمبر  صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد لوگوں کا امام ہے۔[5]

کعبہ کے باہرفاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کی گفتگو

جیسے ہی حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کعبے میں داخل ہوئیں اور دیوار پھر سے آپس میں  مل گئی تو وہاں موجود افراد میں حیرت بڑھی اور کوشش کی کہ کعبے کے در پر لگے تالے کو کھولا جائے مگر ہر ممکن کوشش کے باوجود کھولنے میں ناکام رہے۔ ساتھ ہی یہ خبر پورے مکہ میں آگ  کی طرح پھیل گئی اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا کعبے میں جانا  زبان زد عام ہو گیا۔ رسول خدا صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ولادت کے سال کو خیر و برکت کا سال قرار دیا اور فرمایا اللہ نے اس مولود کے صدقے ہم پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دیے ہیں ۔جیسے ہی چوتھے دن صبح حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا حکم خدا سے کعبے سے باہر آنے لگی تو ایک بار پھر دیوار میں دراڑ ائی اور دیوار نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو راستہ دیا ۔جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے بچے کو آغوش میں لیا اور باہر ائیں۔ دیکھنے والوں کی حیرت کی انتہا  نہ تھی اس سے پہلے کہ کوئی سائل سوال کرے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے لوگوں کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا ؛ مجھے یہ فضیلت حاصل ہوئی کہ اللہ نے مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دی اور تین دن تک مجھے اپنا مہمان بنایا ۔ یہ فضیلت بھی  مجھے ہی حاصل ہے کہ میں نے کعبے میں فرزند کو جنم دیا اور تین دن تک میرا کھانا جنت سے آتا رہا ۔اب جیسے ہی میں بچے کو لے کر باہر آنے لگی تو مجھے ہاتف غیبی سے آواز آئی ؛اے فاطمہ سلام اللہ علیہا اس کا نام علیؑ رکھو۔ میں اعلی ہوں اور یہ علیؑ ہے۔ میں نے اسے اپنے نور سے خلق کیا ہے۔ میں نے اسے اپنے اسرار کا علم عطا کیا ہے اور اس کے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے۔ اس مولود نے میرے گھر میں جنم لیا ہے۔ یہی وہ ہے کہ جو میرے گھر میں پہلی بار اذان کی آواز بلند کرے گا اور بتوں کو توڑے گا اور میری حمد و ثنا بجا لائے گا ۔یہی پیغمبر صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کے بعد لوگوں کا امام ہے اور خوش نصیب ہے وہ شخص کہ جس نے اس کی اطاعت کی اور جس نے اس سے بغض رکھا میں اسے ذلیل کروں گا۔[6] رسول خدا صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   ارشاد فرماتے ہیں کہ مولا متقیانؑ کی ولادت پر حضرت جبرائیلؑ  نازل ہوئے اور فرمایا؛ اللہ نے آپ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر درود و سلام بھیجا ہے اور آپ ص کو  آپ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بھائی علیؑ کی ولادت کی مبارک دی ہے۔[7]

جیسے ہی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی گفتگو تمام ہوئی تو پیغمبر اکرم صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   اور جناب ابو طالبؑ قریب آئے اور حضرت ابو طالبؑ نے اپنے بیٹے کو اٹھایا جیسے ہی مولا کی نظر اپنے والد گرامی پر پڑی تو فرمایا ؛السلام علیک یا ابہ رحمۃ اللہ و برکاتہ حضرت نے سلام کا جواب دیا و علیک السلام یا بنی و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ پھر جیسے ہی رسول خدا  صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مولا کے قریب آئے اور مولا کی نظر رسول خدا صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر پڑی تو مسکرائے اور فرمایا السلام علیک یا رسول اللہ و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپؑ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے سلام کا جواب دیا اور مولا کو اٹھایا اور بوسہ دیا۔[8]

صحف انبیاء  علیہم السلام اور قرآن کی تلاوت

جیسے ہی پیغمبر اکرم صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے حضرت علیؑ  کو اٹھایا اور آغوش میں لیا تو مولا متقیان ؑنے آپ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی طرف رخ کر کے فرمایا ؛اے رسول خدا صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اگر اجازت ہو تو  کچھ پڑھوں تو آپ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے فرمایا پڑھو'مولامتقیانؑ نے   رسول خدا صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی آغوش  میں انبیاء علیہم السلام کے صحف کو پڑھنا شروع کیا صحیفہ آدم ؑ کی تلاوت کی پھر صحیفہ  نوحؑ، صحیفہ ابراہیمؑ ، تورات ، زبور اور انجیل کی تلاوت کی ۔رسول خدا صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   ارشاد فرماتے ہیں ؛ انجیل عیسیؑ  کے بعد امیر المومنین ؑنے قران مجید کی تلاوت شروع کی اور سورہ مومنون کی پہلی 11 آیات  کی تلاوت کی

 بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم، قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ، الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ، وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ، وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَعِلُونَ ، وَالَّذِينَ هُمْ  لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ، إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَنُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ،فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ،وَالَّذِينَ هُمْ لأَمَنَتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ، وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ  يُحَافِظُونَ ،أُولَئِكَ هُمُ الْوَرِثُونَ ،الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

پھر رسول خدا صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے حضرت علیؑ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا قَدْ أَفْلَحُوا بِكَ، أَنْتَ وَ اللَّهِ أَمِيرُهُمْ، تَمِيرُهُمْ مِنْ عِلْمِكَ فَيَمْتَارُونَ ، وَ أَنْتَ وَ اللَّهِ دَلِيلُهُمْ وَ بِكَ يَهْتَدُونَ۔۔۔۔۔اے علیؑ بے شک مومن آپؑکی وجہ سے فلاح پا گئے اور خدا کی قسم آپؑ مومنوں  امیر ہیں ۔آپؑ وہ ہیں  جو مومنین کو علوم سے بہرمند فرمائیں گے۔ خدا کی قسم آپؑ مومنین کی ہادی ہیں اور مومن آپؑؑکے وسیلے سے کامیاب ہوں گے اور خدا کی قسم آپؑ میرے وصی و جانشین ہیں ۔آپؑ ہی دین کے مددگار ہیں اور بے شک آپؑ ہی ہیں جو میرے داماد اور حسنؑ و حسینؑ کے والد ہیں ۔ خوش بخت ہے وہ انسان کے جو آپؑ سے محبت کرے اور آپؑ کی اطاعت کرے اور بدبخت ہے وہ شخص کہ جو آپؑ کی مخالفت کرے اور آپؑ کی دشمنی پر اتر آئے۔ اور خدا کی قسم ہے اےعلیؑ آپؑ سے محبت نہیں کرے گا مگر مومن اور آپؑ سے بغض نہیں رکھے گا مگر منافق ۔[9]

رسول خدا صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ارشاد فرماتے ہیں؛ امیر المومنینؑ نے قران کو اول سے آخر تک اسی طرح پڑھا جس طرح بعد میں مجھ پر نازل ہوا ۔پھر رسول خدا صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنی زبان کو مولاعلیؑ  کی زبان میں رکھا اور اسرار و علوم کو مولا تک منتقل فرمایا ۔[10]



[1] ۔ بحارالانوار، ج 35 ص 13 و 37 امالی شیخ طوسی ص 80 علی ولیدالکعبۃ ص 31 و 51 جنات الخلود ص 3

[2] ۔ بحارالانوار، ج 35 ص 13 روضۃ الواعظین ص 68 و 71

[3] ۔ علیؑ ولیدالکعبۃ ص 31  مولد بطل الاسلام ،ص 28

[4] ۔ علیؑ ولیدالکعبۃ ص 32

[5] ۔ بحارالانوار، ص9 علل الشرائع ص 56 معانی الاخبار ص 62

[6] ۔ بحارالانوار، ج 35 ص 8 و 38 روضۃ الواعظین ص67 علل الشرائع ص56 معانی الاخبار ص62 امالی شیخ صدوق ص 80 کشف الیقین ص 6 بشارۃ المصطفی ص 9 علیؑ ولیدالکعبۃ ص 33

[7] ۔ بحارالانوار، ج 35 ص 21 روضۃ الواعظین ص 72

[8] ۔ امالی شیخ طوسی ص 80 علیؑ ولیدالکعبۃ ص 33 و34 بحارالانوار ج 35 ص 22 و 37 روضۃ الواعظین ص 72

[9] ۔ بحارالانوار ، ج35 ص 22 و 37 روضۃ الواعظین ص 72 امالی شیخ طوسی ص 80

[10] ۔ بحارالانوار ج 35 ص 18و 22 و 30 و 38 روضۃ الواعظین ص 72 مناقب ابن شھر آشوب ج2 ص 172 المعدۃ ص14 

کمنٹس

کمنٹ لکھیں

براہ کرم نوٹ کریں، منظوری کے بعد کمنٹ شائع کیے جائیں گے۔