تحریر۔ محمد باقر انصاری
مترجم۔ ساجد علی گوندل
کلیدی کلمات:
ولادت،کعبے میں ولادت، حضرت علی (ع)، حضرت فاطمہ بنت اسد (س)،
خلاصہ: یہ مقالہ بنیادی طور پر حضرت علی علیہ السلام کی کعبے میں ولادت کے متعلق لکھا گیا ہے۔ اس میں ولادت سے قبل، دوران ولادت اور ولادت کے بعد کے حالات کو تاریخی منابع کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ ولادت سے قابل حضرت عبدالمطلب اور حضرت ابو طالب کو خواب آنا ، ولادت سے پہلے حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کی اپنے بیٹے کے متعلق دعا وغیرہ کا ذکر اسی طرح دوران ولادت کے کچھ احوال جیسا کہ جناب فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کا کعبے کی طرف جانا ، وہاں اسی مولود کے واسطے سے دعا کرنا، دیوار کعبہ کا شق ہونا اور بی بی کو راستہ دینا اور وہاں موجود افراد کی حیرت و پریشانی کو حدیثی و تاریخی منابع کے ساتھ لکھا گیا ہے ۔ تین دن کعبے میں قیام کے دوران جنت سے کھانے کا آنا ، جتنی خواتین کی خصوصی آمد ، حضرت ع کا جنم لیتے ہی سر سجدے میں رکھ کر خدا کی حمد و ثنا کرنا ، کعبے میں موجود بتوں کا منہ کے بل گر کر ٹوٹ جانا، انبیاء و ملائکہ حضرت کی ولادت پر تبریک کے لیے تشریف لانا اور ولادت کے بعد حضرت ع کا رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھوں پر صحف انبیاء علیہم السلام و قران مجید کی تلاوت کرنے جیسے واقعات کو اس مقالے میں جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
حضرت علی ؑ کی خدا کے گھر کعبہ میں
ولادت پر تاریخی اسناد کے ساتھ ایک جائزہ
اس مختصر مقالے میں منابع کے ساتھ یہ ثابث کیا گیا ہے
کہ آپؑ کی ولادت باسعادت کعبہ میں ہوئی نیز اس میں بیان کیاگیا ہے کہ حضرت فاطمہ
بنت اسد سلام اللہ علیہا کیسے کعبے کی طرف گئیں وہاں قیام کے دوران کیا حوادث
رونما ہوئے اور کعبہ سے باہر آکر آپ سلام اللہ علیہا نے لوگوں سے کیا گفتگو کی
المختصر یہ کہ یہ حضرت علی ؑ کی ولادت باسعادت کے احوال پر مختصر مگر جامع تحریر ہے
۔
حضرت عبد المطلب علیہ السلا م کا خواب
امالی شیخ صدوق میں نقل ہوا ہے کہ حضرت عبدالمطلبؑ کہتے
ہیں کہ میں حجر اسماعیل کے پاس سویا تو
میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ۔دیکھتا ہوں کہ میری کمر پر ایک درخت اگا ہے اس
درخت کی بلندی آسمان کو چھو رہی ہے اور اس کی شاخیں شرق و غرب تک پھیلی ہوئی ہیں
۔اس درخت سے ایک نور نکل رہا ہے کہ جو سورج کی روشنی سے ستر گنا زیادہ روشن ہے اور
دیکھتا ہوں کہ عرب و عجم اس کے سامنے سجدہ کر رہے ہیں۔ اور ہر روز اس کے نور میں
مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ پھر اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ قریش کے چند افراد اس نور کو
خاموش کرنے کے ارادے سے جیسے ہی آگے بڑھتے ہیں تو ایک خوبصورت و پاکیزہ نوجوان ان
کی طرف بڑھتا ہے اور انہیں پکڑ کر ان کی کمر توڑ دیتا ہے اور ان کی انکھیں نکال
دیتا ہے۔ جناب عبدالمطلبؑ کہتے ہیں جیسے ہی میں نے یہ خواب ایک خواب کی تعبیر بیان کرنے والے کے سامنے رکھا تو
اس نے کہا کہ تیری صلب سے ایک فرزند جنم
لے گا جو پورے شرق و غرب کا مالک ہوگا اور صاحب وحی ہوگا۔ حضرت
عبدالمطلب ؑنے جناب ابو طالبؑ سے کہا کہ یقینا آپؑ اس نوجوان کے والد ہیں
کہ جو اس نورانی درخت کی حفاظت کرے گا۔[1]
حضرت ابو طالب
علیہ السلام کا خواب
حضرت ابو طالب علیہ السلام
کہتے ہیں کہ ایک دن میں ہجر اسماعیل کے پاس عالم خواب میں کیا دیکھتا ہوں
کہ آسمان کا ایک دروازہ کھلا اور اس سے ایک نور نکلا اور اس نور نے مجھے بغلگیر
کیا ۔جیسے ہی میں خواب سے بیدار ہوا تو میں جحفہ نامی شخص کہ جو خواب کی تعبیر
کرتا تھا کے پاس آیا۔ جیسے ہی اس نے یہ سنا تو کہا کہ اے ابو طالبؑ آپؑ کو مبارک
ہو آپؑ کے ہاں عنقریب ایک خوش نصیب اور بلند مرتبہ بچہ پیدا ہوگا ۔حضرت ابو طالبؑ
کہتے ہیں یہ سنتے ہی میں نے کعبہ کے گرد طواف کیا اور خداوند متعال سے دعا کی کہ
اس بچے کو جلد سے جلد دنیا میں بھیج تاکہ میں اسے دیکھ سکوں۔فرماتے
ہیں کہ ایک بار پھر اتفاق ہوا میں حجر اسماعیل کے پاس ہی سو گیا اور اس مرتبہ خواب دیکھتا ہوں کہ آپؑکے
دادا عبد مناف خواب میں آتے ہیں اور وہ
مجھے فاطمہ بنت اسد علیہا السلام سے شادی
کے لیے راہنمائی کرتے ہیں، اس خواب کے بعد ہی جناب ابوطالبؑ نے حضرت فاطمہ بنت اسد
علیہا السلام سے شادی کی ۔شادی کے بعد جناب ابوطالبؑ کعبہ کے پاس آئے اور یوں دعا کی؛ اے اللہ میں
تجھ سے ایسا فرزند چاہتا ہوں کہ تیرے پیامبر صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کا وزیر ہو۔[2]
رسول خدا ص جب جناب ابوطالب ؑ کے ساتھ شام کے سفر پر
گئے تو راستے میں راہب نے آپ صَلَّی اللہُ
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا اور آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت کی
پیشگوئی کی اور ساتھ ہی آپ صَلَّی اللہُ
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سےپوچھا
کہ کیا آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کے چچا ابوطالب ؑ کے ہاں علی نام کا کوئی فرزند ہے ؟ تو آپ صَلَّی
اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے
فرمایا نہیں راہب نے کہا "علیؑ" یا تو اب تک پیدا ہو چکے ہیں یا اس سال
پیدا ہوں گے، اور وہ پہلے ہوں گے کہ جو محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لائیں
گے ہم انہیں جانتے ہیں اور ہمارے نزدیک
جیسے یہ ثابت ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نبوت پر مبعوث ہونگے اسی طرح یہ بھی ثابت ہے وہ
آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کے وصی و وزیر ہوں گے۔ عالم بالا میں اس کا نام علی ؑہے ۔ فرشتے اس کی شجاعت کا
قصیدہ پڑھتے ہیں اور آسمانی مخلوقات میں وہ چمکتے سورج
سے بھی روشن تر ہیں ۔[3]
حضرت فاطمہ بنت اسد سلام
اللہ علیہا کی دعا
فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کہتی ہیں کہ ہمارے گھر
میں کھجور کا ایک خشک درخت تھا۔ حضرت محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بچپن میں جیسے
ہی اسے چھوا تو اسی لمحے وہ سوکھی کھجور ہری ہو گئی۔پھر میں ہر روز کچھ
کھجوریں ایک ڈبے میں جمع کرتی اور آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شام کے وقت ان کجھوروں کو بنی ہاشم کے بچوں
میں تقسیم کر دیتے ۔ایک دن درخت سے ایک بھی کھجور زمین پر نہ گری کہ میں انہیں اکٹھا کر
سکوں۔ خدا کی قسم حضرت محمد صَلَّی اللہُ
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھجور کے درخت کے پاس گئے اور کچھ کلمات کہے
اچانک کھجور کی شاخیں ایسی جھکیں کہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سر کے اوپر پہنچ
گئیں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم نے کچھ کھجوریں توڑیں اور پھر وہ شاخیں واپس اپنی جگہ پہ چلی گئیں۔ یہ
معجزہ دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں اللہ سے دعا کی اور کہا: پروردگار مجھے ایسا
بیٹا عطا فرما جومحمد صَلَّی اللہُ
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بھائی
اور اس کا وزیر ہو۔[4]
فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کہتی ہیں کہ حمل کے ایام
میں یہ مولود میرے ساتھ باتیں کرتا
اور شکم سے اکثر یہ آواز آتی لا إِلَهَ
إِلَّا اللَّهَ مُحَمَّدُ رَسُولُ اللَّهِ، بِهِ تَخْتِمُ النَّبُوَّةُ وَ بِي
تَخْتِمُ الْوِلايَةُ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد
صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ کے رسول ہیں اوران پر نبوت ختم ہوتی ہے اور مجھ پر
ولایت ختم ہوتی ہے) اور حتی بعض اوقات تو دوسروں سے بھی باتیں کرتا ،ایک دن اس
مولود نے اپنے بھائی جعفر سے بات کی تو
جعفر یہ سب دیکھ کر بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔[5]
حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کہتی ہیں کہ حمل کے ایام میں میرا گزر جہاں سے بھی ہوتا وہاں موجود پتھر ،
درخت چرند و پرند تمام موجودات مجھے اس مولود کی اس انداز میں
مبارک باد پیش کرتے هَنيئاً لَكِ
يَا فَاطِمَةُ، بِمَا خَصَّكِ اللَّهُ مِنَ الْفَضْلِ وَ الْكَرَامَةِ بِحَمْلِكِ
بِالْإِمَامِ الْكَرِيمِ ( اے فاطمہ سلام اللہ
علیہا آپ کو اللہ کی طرف سے عطا کی گئی عزت و فضل و کرامت مبارک ہو بے شک آپ ایک کریم امام کی ماں ہیں )۔[6]
ناپاک ہاتھ ولی ِخدا کو
نہیں چُھو سکتا
30عام الفیل 13رجب (21مارچ 599 عیسوی) شب
جمعہ دو تہائی رات گزر چکی تھی کہ جناب فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا پر بچے کی
ولادت کے آثار نمودار ہوئے ۔حضرت ابوطالبؑ
نے چاہا کچھ خواتین کو بلائیں تاکہ وہ اس حالت میں فاطمہ سلام اللہ
علیہا کی دیکھ بھال کریں۔ ابھی ارادہ ہی
کیا تھا کہ ہاتف غیبی سے آواز آتی ہے ؛اے ابوطالب ؑ صبر کرو اور اس کی ضرورت نہیں
ہے کیونکہ ولی خدا کو کوئی نجس و ناپاک ہاتھ
نہیں چُھوسکتا پس یہ سننے کے بعد جناب ابوطالب ؑنے اپنا
ارادہ ترک کر دیا۔[7]
رات گزرنے کے بعد صبح پھر سے بچے کی ولادت کے آثار ظاہر
ہونے لگے جناب ابوطالبؑ پریشانی کے عالم
گھر سے باہر آتے ہیں تو رسول خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ملاقات ہوتی ہے
آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم نے پوچھا کہ اتنے پریشان کیوں ہیں۔ تو جناب ابوطالب ع نے آپ صَلَّی
اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو
حالات سے آگاہ کیا ،اسی دوران گھر میں موجود جناب فاطمہ بنت اسد سلام اللہ
علیہا کو ایک غیبی آواز سنائی دیتی ہے ؛
اے فاطمہ سلام اللہ علیہا تمہیں فرزند کی
مبارک ہواور خدا کے گھر یعنی کعبہ کی طرف جاؤ ،رسول خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم و جناب ابوطالب ع
بی بی کو کعبہ کی طرف لے آتے ہیں۔[8]
کعبہ کے پاس فاطمہ سلام
اللہ علیہا کی دعا
کیونکہ رجب کا مہینہ تھا اس لیے دنیا کے طول و عرض سے لوگ عمرے کی ادائیگی کے لیے بڑی تعداد میں
موجود تھے ۔عباس بن عبدالمطلب بھی قریش کے چند اور افراد کے ساتھ مسجد الحرام میں
ہی تھے ۔اسی اثنا فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا مسجد الحرام میں داخل ہوئیں اور کعبہ کے
روبرو کھڑی ہو کر اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا کر یوں دعا کی ؛
رَبِّ إِنِّي مُؤْمِنَةٌ بِكَ وَ بِمَا جَاءَ مِنْ عِنْدِكَ مِنْ رُسُلٍ وَكُتُبِ،
وَ إِنِّي مُصَدِّقَةٌ بكَلامِ جَدَى إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ وَ إِنَّهُ بَنَى
الْبَيْتَ الْعَتِيقَ. فَبِحَقِّ الَّذِي بَنِي هَذَا الْبَيْتَ وَ بِحَقِّ
الْمَوْلُودِ الَّذِي فِي بَطْنِي يُكَلِّمُني وَ يُؤْنِسُنِي بِحَدِيثِهِ وَ
أَنَامُوقِنَةُ أَنَّهُ إِحْدَى آيَاتِكَ وَ دَلَائِلِكَ ، لَمَّا يَسَّرْتَ
عَلَيَّ وِلادَتِي (اے پروردگار میں تجھ پر
،تیرے انبیاء علیہم السلام پر اور تیری
طرف سے آنیوالی کتابوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ اور میں اپنے دادا ابراہیمؑ خلیل خدا
کی باتوں کی تصدیق کرتی ہوں وہی ہیں کہ جنہوں نے اس گھر کی بنیاد رکھی اور تعمیر
کیا اور میں تجھ سے سوال کرتی ہوں اسے
وسیلہ بنا کر جس نے اس گھر کو تعمیر کیا
اور اور تجھے اس مولود کے حق کا واسطہ
دیتی ہوں کہ جو میرے شکم میں ہے
اور میرے ساتھ باتیں کرتا ہے اور میرے ساتھ مانوس ہے اور میں جانتی ہوں کہ یہ
مولود تیری بڑی نشانیوں( آیات کبریٰ) میں سے ہے،اے پروردگار تجھے اس فرزند کا واسطہ اس بچے کی
ولادت کو مجھ پر آسان فرما)۔[9]
فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کعبہ کی دیوار کے سامنے کھڑی ہو کر دعا کر
رہی تھی کہ سب کے سامنے اچانک دیوار کعبہ میں
بالکل اسی جگہ سے دراڑ آئی کہ جہاں
فاطمہ سلام اللہ علیہا کھڑی تھی ،حکم ہوا کہ اندر چلی جائیں
اور دیوار میں اتنا شگاف ہوا کہ حضرت
فاطمہ سلام اللہ علیہا آسانی سے کعبہ
کے اندر چلی گئی۔ جیسے ہی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کعبے کے اندر داخل ہوئیں تو
دیوار پھر سے آپس میں ایسے مل گئی کہ جیسے اس میں کسی قسم کا کوئی شگاف تھا ہی
نہیں ۔یہ منظر وہاں موجود تمام افراد نے دیکھا اور حیرت میں پڑ گئے ۔ بڑی تیزی سے
یہ خبر پورے مکہ میں پھیل گئی دیکھنے والوں نے یہ ماجرا ان تک پہنچایا کہ جو وہاں
موجود نہ تھے ۔ یوں کعبے میں خدا کی طرف سے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی
مہمانی کا آغاز ہوا۔[10]
حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا اپنی مرضی سے کعبہ
کے اندر نہیں گئیں بلکہ خداوند متعال کی دی گئی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے کعبے میں
داخل ہوئیں ۔اور ظاہر ہے وہاں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اب خدا کی مہمان تھی
لہذا تین دن کے اس قیام میں آپ کا کھانا جنت سے آتا رہا اور آپ نے جنتی
نعمات سے استفادہ کیا۔[11]
حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کہتی ہیں کہ جب میں
کعبے میں داخل ہوئی اور وہاں قیام کیا تو اس
دوران پانچ نورانی خواتین کہ جنہوں نے سفید حریر کا لباس زیب تن کیا ہوا
تھا اور ان کے لباس سے مشک و عنبر سے کئی
بہتر خوشبو مہک رہے تھے میرے پاس
آئیں اور کہا السلام علیک یا ولیۃ اللہ
اے کنیز خدا تم پر سلامتی ہو ، میں نے
بھی ان کے سلام کا جواب دیا۔ ان میں حضرت حوّا سلام اللہ علیہا حضرت سارہ
سلام اللہ علیہا حضرت آسیہ سلام اللہ علیہا مادر موسی سلام اللہ علیہا اور حضرت
مریم سلام اللہ علیہاشامل تھی اور یہ
باعظمت خواتین خداوند متعال کی طرف سے اس مولود کی ولادت میں معاون کے طور پر آئیں۔[12]
[1]۔ امالی شیخ صدوق علیہ الرحمہ ،ص 158
[2] ۔بحارالانوار ، ج 38 ص 47
[3] ۔ بحارالانوار، ج 15 ص 203 و ج 38 ص 42
[4] ۔ بحار الانوار، ج 35 ص 84 و مناقب ابن شہر آشوب، ج 1 ص 25
[5] ۔ الدرالنظیم ، ص 227
[6] ۔ بحارالانوار، ج 35 ص 42 کنزالفوائد (کراجکی) ص 117
[7] ۔ بحارالانوار، ج35 ص 12 و 13 روضۃ الواعظین ،ص 68 تا 71
[8] ۔
بحارالانوار، ج 35 ص30 العمدہ ، ص 10 علیؑ ولیدالکعبۃ ، ص 30
[9] ۔ بحارالانوار ، ج35 ص 8 علل الشرائع ،ص 56 معانی الخبار،ص 62
امالی شیخ صدوق ص 80 روضۃ الواعظین ص 67 امالی شیخ طوسی ص 80
[10] ۔ بحارالانوار، ج35 ص 30 تا 36 امالی شیخ طوسی ص 80 علیؑ
ولیدالکعبۃ ،ص 30
[11] ۔ بحارالانوار، ج35 ص 9 اعلام الوری ، ص 93 الارشاد ص 3
[12] ۔ بحارالانوار، ج35 ص 12 و 13 روضۃ الواعظین ص 68