اتوار  ،19 اپریل  ،2026ء   |   روزانہ کی حدیث
’’جو شخص اپنے برادر مؤمن پر تہمت و بہتان لگائے وہ اہل دوزخ ہوگا۔‘‘(امام جعفر صادق علیہ السلام) ( ( بحارالا نوار: ج 75، ص 260، ح 58))
Image

امام صادق (ع) کی علمی خدمات و رابطے

امام صادق (ع) کی علمی خدمات و رابطے

امام صادق (ع) کی علمی خدمات و رابطے

  • سید حسنین عارف

ترجمہ و تالیف:  مولانا شیخ کاظم رضا


    پیغمبراسلام (ص)کی رحلت خصوصاً امیرالمومنین ؑ کی شہادت کےبعد سے پیروانِ اہلِ بیت (ع) کا اپنے رہبروں سے رابطہ بہت مشکل ہو گیا تھا یہاں تک کہ حاکم شام نے ملک بھر کے اپنے حکام اور گورنروں کو ایک سرکلر بھیجا: ’’اگر دو لوگ گواہی دیں کہ کوئی علی اور ان کے خاندان کا دوست ہےتو اس کا نام بیت المال کی لسٹ سے نکال دیں اور اس کی تنخواہ اور تقرریوں کو روک دیں۔‘‘(  ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ ،ج۱،ص۴۵۔۴۳)

    زیاد،ابن زیاد اور حجاج بن یوسف جیسے ظالم اور سفاک حکمرانوں کی وجہ سے شیعوں اور ان کے قائدین کے درمیان تعلقات آخری درجے تک محدود ہو چکے تھے ۔یہاں تک کہ بعض روایات کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد صرف چار افراد امام سجاد علیہ السلام کے پاس رہ گئے تھے ۔اور سعید بن جبیر جیسےشخص کو امام زین العابدین علیہ السلام سے تعلق رکھنے کے جرم میں پھانسی دے دی گئی تھی ۔(طوسی،محمد بن حسن،معرفہ الرجال،جل۱،ص۳۳۲)

    لیکن پہلی صدی ہجری کے آخر تک بنو عباس کی تحریک اور طالبیان کی بغاوتوں کے آغاز سے حالات بدل گئے اور بنی امیہ کی توجہ دوسری جگہوں کی طرف مبذول ہوئی ، شیعوں نے سکون کا سانس لیا اور اپنے آئمہ ؑ سے رابطہ کرنے کے قابل ہوئے اور یہ رابطہ امام صادق ؑکے دور میں اپنے عروج پر پہنچا۔

شیعوں کی امام کے ساتھ رابطہ کی روشیں 

    مسلمانوں اور خصوصاً پیروانِ مکتبِ اہل بیتؑ کے ماننے والوں کا امام صادق ؑسے رابطہ کرنے کی روشوں کو کلی طور پر دو صورتوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

استاد اور طالب علم کا رابطه

    بعض شیعہ بزرگان جیسے ہشام بن حکم، محمد بن مسلم ، ابان بن تغلب ، ہشام بن سالم ، مومن الطاق ، مفضل بن عمر ، جابر بن حیان، امام صادق ؑ کے شاگردان و تربیت شدگان تھے۔بعض شیعہ محققین اور علماء نے آپ کے شاگردوں کی تعداد چار ہزار افراد تک بتائی ہے اور صرف ان سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات سے چار سو مقالے لکھے گئے ہیں۔ امام صادق ؑ کے بعض شاگردوں کے بہت سے علمی آثار اور شاگردان تھے۔مثال کے طور پر ہشام بن حکم نے اکتیس کتابیں لکھیں۔(طبرسی،فضل بن حسن،اعلام الوری باعلام الہدی،ج۲،ص۲۰۳)

    اسی طرح جابر بن حیان نے بھی مختلف شعبوں میں دو سو سےزائد کتابیں تصنیف کیں، :خاص طور پر عقلی علوم،فزکس اور کیمسٹری کے شعبوں میں ۔ ابان بن تغلب کا مسجد نبوی میں درس ہوا کرتا تھا ،جب وہ مسجد میں داخل ہوتے تو وہ ستون جس پر رسول اللہ ﷺ ٹیک لگاتے تھے،ان کے لیے صاف کر دیا جا تا تھا۔

    امام صادق علیہ السلام کے شاگرد صرف شیعوں تک محدود نہیں تھے بلکہ اہل سنت نے بھی آپ کے مکتب سےاستفادہ کیا۔(ابن ندیم ، محمد بن اسحاق ،الفہرست ، ص۴۳۵ ۔بہ بعد)چاروں سنی آئمہ بالواسطہ یا بلاواسطہ امام صادق علیہ السلام کے شاگرد تھے۔ابو حنیفہ ان راہنماؤں میں سر فہرست ہیں جو بذاتِ خود دو سال امام کے شاگرد رہے اور ان کے علم کی بنیاد ان دو سالوں سے ہے۔امام کے شاگرد مختلف مقامات جیسے کوفہ،بصرہ،وسط حجاز اور دیگر علاقوں سے تھے اور اسی طرح مختلف قبائل سے بھی تھے۔جیسے بنی اسد ،بنی مخارق ، بنی طی ، بنی سلیم ، بنی غطفان ، بنی ازد،بنی خزاعہ ،بنی خثعم ، بنی مخزوم ، بنی ضبہ، قریش خصوصا بنی حارث،بن عبدالمطلب و بنی الحسن آپ کے مکتب سے وابستہ ہوئے ۔

    ابن حجر عسقلانی کے مطابق ، اہل سنت فقہا اور محدثین جیسے:شعبہ ،سفیان ثوری ، سفیان بن عیینہ ،مالک ، ابن جریح ،ابوحنیفہ ،ان کے بیٹے موسیٰ وہب بن خالد ، قطان ، ابو عصام اور دوسرے لوگوں کی ایک بڑی جماعت نے آپ سے حدیث نقل کی ہے۔

    امام صادق علیہ السلام نے اپنے ہر طالب علم کو ایک ایسے شعبے کی ترغیب دی اور اس کی تعلیم دی جو اس کے ذوق و شوق سے ہم آہنگ تھا جس کے نتیجے میں ان میں سے ہر ایک نے علم کے ایک یا دو شعبوں جیسے حدیث،تفسیر اور علمِ کلام میں مہارت حاصل کی۔

    کوفہ امام صادق علیہ السلام کے شاگردوں کے اہم مراکز میں سے تھا ۔حسن بن علی بن زیادہ و شاء جو امام رضا علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کوفہ کی مسجد میں 900حدیث کے اساتذہ کو دیکھا جو سب کے سب جعفر بن محمد علیہ السلام سے حدیثیں روایت کرتے تھے۔(نجاشی ،احمد بن علی ،رجال نجاوشی ،ص۴۰۔۳۹،دف ۔ترن ۔شر اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسیں،قم)

عادی رابطے 

    وہ تمام شیعہ جو امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے یا ان کے ساتھ کسی طرح سے رابطہ قائم کر پائے ،صرف آپ کے شاگرد ہی نہیں تھے۔

    کیونکہ اس دور میں شیعیت بہت زیادہ پھیل چکی تھی اور بیشتر اسلامی علاقوں تک پہنچ چکی تھی اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اہلِ بیت علیہم السلام کی پیروی کر رہی تھی ۔اس دورسے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امام صادق (ع) سے شیعوں کے تعلقات کو درج ذیل طریقوں سے بیان کیاجا سکتا ہے۔

حج اور عمرہ کے ذریعے 

    لوگوں کا حج (جو کہ مالداروں پر فرض تھا)کا سفر مدینہ میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچنے کا ایک اچھا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ، تاکہ شیعہ آپ کی موجودگی سے مستفید ہو سکیں۔اس کے علاوہ ، حج کے موسم میں ، آپ مسجد الحرام میں درس دیتے اور شرعی مسائل اور سوالات کے جوابات دیتے۔شیخ مفید بیان کرتے ہیں کہ اسی دوران ایک محفل میں بعض لوگوں نے ملحد ابن ابی العوجہ کو مشورہ دیا کہ وہ امام صادق علیہ السلام سے سوال کریں تاکہ آپ جو اس زمانہ کے سب سے بڑے عالم کے طور پر جانے جاتے ہیں اور لوگ ہر وقت ان کی گرد اکٹھا رہتے ہیں ، لوگوں کے سامنے شرمندہ اور رسوا ہوں لیکن امام صادق علیہ السلام کے عالما نہ  جوابات کے نتیجے میں نا اُمید ہوا اور شرمندہ ہو کر اپنے اصحاب کے پاس واپس چلا گیا ۔(مفید،محمد بن محمد،الارشاد،ج۲،ص۲۰۰)

دینی مسائل سیکھنے کے لئے سفر کرنا 

    اگرچہ پرانے زمانے میں عام مسائل کی تعلیم اور سیکھنے کیلئے سفر کرنا ایک مشکل کام تھا ، تاہم ایسے واقعات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مومنین فقہی مسئلہ سیکھنے کیلئے طویل سفر کی تکالیف اور مشقت برداشت کیا کرتے تھے ۔جیسا کہ مرحوم قطب الدین راوندی نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اور شیعہ علماء سے رجوع کے احکام کی بارے میں پوچھا تھا، انہوں نے جواب دیا،لیکن اس کی بیوی مطمئن نہیں ہوئی مگر یہ کہ امام صادق علیہ السلام اس کا جواب دیں ۔اس وقت امام صادق علیہ السلام کو عباسی خلیفہ کے حکم سے حیرہ میں زیر نگرانی رکھا گیا تھا اور لوگوں کو ان سے ملنے سے روکا گیا تھا۔چنانچہ وہ شخص ’’سبزی بیچنے والے‘‘کا بھیس بدل کر امام صادق علیہ السلام کے گھر کے دروازے پر آیا ،اپنا سوال کیا اور جواب حاصل کیا۔(قطب الدین راوندی ، سعید بن عبداللہ ، الخرائج اور الجرائح ،ص۶۴۲)

وکلاء کے ذریعے رابطہ

    لوگوں کے لئے امام صادق علیہ السلام سے رابطہ کرنے کا ایک اہم طریقہ ان کے وکیلوں کے ذریعے رابطہ تھا ، یہ طریقہ امام صادق علیہ السلام کے زمانے سے ہی شیعہ علاقوں کی وسعت کی وجہ سے استعمال کیا جا تا تھا۔ شیعہ حضرات خمس و زکات وغیرہ ان وکلاء کے ذریعے آئمہ اطہار علیہم السلام تک پہنچاتے تھے اور ان ہی کے ذریعے احکام اور شرعی حاصل کرتے تھے ۔


کمنٹس

کمنٹ لکھیں

براہ کرم نوٹ کریں، منظوری کے بعد کمنٹ شائع کیے جائیں گے۔