پیغمبر ختمی المرتبت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شخصیت ایسی ہمہ گیر اور جامع شخصیت ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ نا ممکن ہے، ہر شخص اور محقق اپنی استعداد کے مطابق اس بحر مواج میں غوطہ زن ہو کر معرفت کے گوہر حاصل کرتا ہے ۔
پیغمبر اسلام کی شخصیت عالم خلقت کا نقطہ کمال اور عظمتوں کی معراج ہے۔ خواہ کمالات کے وہ پہلو ہوں جو انسان کیلئے قابلِ فہم ہیں جیسے انسانی عظمت کے معیار کے طور پر عقل، بصیرت، فہم، سخاوت، رحمت اور در گذر وغیرہ کے عنوان سے جانے جاتے ہیں خواہ وہ پہلو ہوں جو انسانی ذہن کی پرواز سے ماورا ہیں یعنی وہ پہلو جو پیغمبر اسلام ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کے مظہر کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں یا آپ کے تقرب الہٰی کے درجات کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جن کے بارے میں ہم اتنا ہی جانتے ہیں کہ یہ کمالات ہیں لیکن ان کی حقیقت سے اللہ تعالیٰ اور اس کے خاص اولیا ہی آگاہ ہیں ۔یہ ان کی شخصیت تھی اور دوسری طرف ان کا لایا ہوا پیغام، انسانی سعادت کیلئے سب سے عظیم اور بہترین پیغام ہے جو توحید، انسان کی عظمت و سربلندی اور انسانی وجود کے کمال و ارتقا کا حامل ہے اور یہ کہنا بجا ہے کہ انسانیت آج تک اس پیغام کے تمام پہلوؤں کو بطور کامل اپنی زندگی میں نافذ نہیں کر سکی ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ انسانی ترقی اور کمال ایک نہ ایک دن اپنے مطلوبہ مقام تک ضرور رسائی حاصل کرے گا اور یہی انسانی کا نقطہ عروج و کمال ہو گا۔البتہ اس مفروضہ کی بنیاد پر کہ انسانی سوچ اور فکر اور اس کا علم و ادراک روز بروز ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اور یہ مسلمہ ہے کہ اسلام کا پیغام زندہ و جاوید ہے کوئی وجہ نہیں کہ ایک نہ ایک دن یہ پیغام انسان کی معاشرتی زندگی میں اپنا مقام حاصل نہ کر لے ۔نبی اکرم (ص) کے پیغام توحید کی حقانیت ، اسلام کا درس زندگی اور انسانی سعادت اور ترقی اور کمال کی منازل طے کرے۔وہ چیز جو ہم مسلمانوں کے لئے اہم ہے وہ یہ کہ اسلام اور پیغمبر (ص) کی زیادہ سے زیادہ شناخت و معرفت حاصل کریں، آج دنیائے اسلام کا سب سے بڑا درد فرقہ واریت ہے۔ عالمِ اسلام کی یکجہتی اور اتحاد کا محور پیغمبر(ص) کے مقدس وجود کو قرار دیا جا سکتا ہے جن پر تمام مسلمانوں کا ایمان و اعتقاد بھی ہو اور جن (ص) کے وجود سے سب مسلمانوں کا اندرونی اور قلبی رشتہ بھی ہو اور یہی نقطہ اتحاد کا بہترین مرکز و محور ہے ۔یہ کوئی اتفاق نہیں ہے جو ہم ادھر چند سالوں میں مشاہدہ کر رہے ہیں کہ قرونِ وسطی کی طرح مستشرقین نے آنحضرتﷺ کے وجود مقدس پر اہانت آمیز تنقید و تبصرے کرنا شروع کر دئیے ہیں۔
قرونِ وسطیٰ میں بھی عیسائی پادریوں نے اپنی تحریروں ، تقریروں اور نام نہاد آرٹ کے فن پاروں میں جب مستشرقین کی تاریخ نویسی کا آغاز ہوا تھا، پیغمبر(ص) کی شخصیت کو نشانہ بنایا ۔ گذشتہ صدی میں بھی ہم نے ایک بار پھر دیکھا کہ مغرب کے غیر مسلم مستشرقین نے جس چیز کو شک و شبہے اور جسارت و اہانت کا نشانہ بنایا تھا وہ پیغمبر اسلام (ص) کی مقدس شخصیت تھی ۔اب کئی سال گذرنے کے بعد ان حالیہ سالوں میں ہم پھر دیکھ رہے ہیں کہ میڈیا اور نام نہاد ثقافتی لٹریچر کے ذریعے دنیا کے مختلف مقامات پر آپ ﷺ کی شخصیت پر ایک بار پھر حملے کرنے کی جسارت کی گئی ہے ۔
یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہو رہا ہے کیونکہ انہںوں نے اس حقیقت کو بھانپ لیا ہے کہ مسلمان اسی مقدس شخصیت کے وجود پر جمع ہو سکتے ہیں کیونکہ ان سے تمام مسلمانوں کو عشق اور والہانہ محبت ہے لہیذا انہوں نے اسی مرکز کو حملے کا نشانہ بنایا آج علمائے اسلام اور مسلمان دانشوروں منصفین، شعرا اور اہلِ فن حضرات سب کی ذمہ داری ہے کہ ان سے جتنا بھی ممکن ہو پیغمبر اسلام (ص) کی شخصیت کے عظیم پہلوؤں کو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سامنے بیان کریں ان افراد کا یا یہ کام اُمت اسلامیہ کے اتحاد میں اور ان مسلم نوجوانوں کی رہنمائی میں جو اسلام کی طرف بڑی شدت سے راغب نظر آرہے ہیں، بہت زیادہ مددگار ثابت ہو گا۔
(۱۷ربیع الاوّل کی مناسبت سے حکومتی عہدہ داروں سے رہبر معظم انقلاب سید علی خامنہ ای کے خطاب کا اقتباس ۔۳۱۔۳۔۷۹)