منگل  ،21 اپریل  ،2026ء   |   روزانہ کی حدیث
’’جو شخص اپنے برادر مؤمن پر تہمت و بہتان لگائے وہ اہل دوزخ ہوگا۔‘‘(امام جعفر صادق علیہ السلام) ( ( بحارالا نوار: ج 75، ص 260، ح 58))
Image

پیغمبر اسلام (ص) اسلامی حکومت کے مؤسس

پیغمبر اسلام (ص) اسلامی حکومت کے مؤسس

پیغمبر اسلام (ص) اسلامی حکومت کے مؤسس

  • سید حسنین عارف

تحریر/تالیف:   مولانا شیخ کاظم رضا


بے شمار شواہد و قرائن سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے حکومت قائم کرنے والی شخصیت پیغمبر اسلام (ص) کی ذاتِ گرامی تھی۔

تاریخی مأخذوں میں جستجو اور پیغمبر اسلام کے مدینہ تشریف لانے کے بعد پیش آنے والے واقعات کا تجزیہ و تحلیل کرنے سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے مدینہ پہنچتے ہی حکومت قائم کی اور ایک حاکم اور سیاسی شخصیت کی طرح حکومت کا ڈھانچہ تیار کیا،اسلامی ملک کی حفاظت کی خاطر ایک منظم لشکر بنایا ۔ آپ نے صلح اور جنگ کے احکام صادر کئے ، بعض گروہوں اور قبیلوں سے معاہدے کئے ، اقتصادی ، اجتماعی اور سماجی پروگراموں کو منظم کیا،گورنر مقرر کئے دوسرے ممالک کے سربراہان اورقبائلی سرداروں کے پاس سفیر روانہ کئے،دوسرے ملکوں کے بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو اسلام کی دعوت دی ۔آپ نے ایک مسجد تعمیر کرائی جس میں لوگوں کے اختلافات اور لڑائی جھگڑوں کے فیصلے اور حدیں جاری کی جاتی  تھیں،وہیں سے ملکی نظام کو چلایا جاتا تھا۔آپ خود بھی قضاوت کرتے اور قاضیوں کو بھی اس کام کے لئے مقرر کرتے تھے ۔(جعفر سبحانی،مبانی حکومت اسلامی :ترجمہ و نگارش:داؤد الہامی ،انتشارات توحید،قم ، ۱۳۷۰،ص۱۳)

   اس سے پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص)اسلامی حکومت کے سب سے پہلے بانی اور حکومت کی داغ بیل ڈالنے والے تھے ۔آپ نے بذاتِ خود حکومت کا سیاسی اور فکری نظام قائم کیا۔آپ کی رحلت کے بعد حکومت و سیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی اور تھوڑے ہی عرصہ میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گئی ۔اگرچہ بعض لوگ پیغمبر اسلام (ص)کے زمانہ میں اسلامی  حکومت سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت (ص) فقط مسلمانوں کے دینی رہبر تھے اور آپ نے حکومت نہیں بنائی تھی ،لیکن پیغمبر اسلام (ص)کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرنے کے بعد اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ آنحضرت نہ صرف مسلمانوں کے دینی رہبر تھے بلکہ اسلام معاشرے کی سیاسی باگ ڈور بھی آپ کے اختیار میں تھی ۔مذکورہ شواہد پیغمبر اسلام (ص)کی حیاتِ طیبہ میں حکومت کے وجود کا پتا دیتے ہیں۔

   مکہ میں ظہورِ اسلام اور پیغمبر اکرم (ص)کی دعوت اسلام کے پھیلنے اور مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد پیغمبر اکرم (ص)کے ذریعے اسلامی حکومت وجود میں آئی تھی ۔آپ نے تعلیم و تربیت کے علاوہ بہ نفس نفیس اسلامی معاشرے کی رہبری کی ذمہ داری سنبھالی ۔اور مختلف شعبوں میں مسلمانوں کے اجتماعی نظام جیسے قضائی (عدلیہ ) ثقافتی ، سماجی ، سیاسی عسکری اور اقتصادی نظام کی اصلاح کی۔

   یہ مسئلہ قرآنی آیات اور تاریخی شواہد سے اس قدر واضح اور آشکار ہے کہ اس کو غیر مسلم مستشرقین نے بھی جو کسی حد تک اسلامی تاریخ سے آشنا ہیں،صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

  اٹلی کا ایک دانشمند ’’فل لینو‘‘کہتا ہے :حضرت محمد (ص) نے ایک ساتھ دین اور حکومت دونوں کی بنیاد ڈالی ہے آپ کی زندگی میں یہ دونوں ایک دوسرے کے ہم پلّہ تھے ،تو ماس ارنولڈاس طرح کہتا ہے :پیغمبر اسلام (ص) دین اور حکومت کے پیشوا تھے ۔

  سٹروٹ مین کہتا ہے ؛ اسلام دینی اور سیاسی مذہب ہے کیونکہ اس مذہب کے مؤسس نبوت کے علاوہ حکومت کے فنون سے بخوبی واقف تھے۔

اسلام ایک سیاسی دین ہے !

   کسی بھی صورت میں اسلام کو حکومت سے جدا تصور نہیں کیا جا سکتا بغیر حکومت کے اس کے اکثر احکام لغو ہو جائیں گے جو اسلامی افکار کے مخالف ہے ،چونکہ اسلام ایک کامل دین ہے اور اس میں انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں کے لئے  قوانین موجود ہیں ،یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے اکثر احکام کو جاری کئے بغیر چھوڑ دیا جائے لہٰذا اسلام میں حکومت کا وجود ضروریات اسلام میں شمار ہوتا ہے اور پیغمبر اسلام (ص) نے اس ضرورت کو آشکار کیا اور خود قوانین اور احکام کو جاری کرنے اور اسلامی سماج کے امور کی رسیدگی کرنے کے لئے حکومت بنانے کا اقدام کیا اور یہ بات تاریخی شواہد سے ثابت ہے ۔

   امام خمینی (رح) فرماتے ہیں : دین اسلام ایک سیاسی دین ہے (صحیفہ نور ،ج ۲۱،ص۱۷۸)اور یہ دونوں اسلام کے جزء لاینفک ہیں۔

   رسول اسلام (ص)کا مدینہ میں حکومت کرنا دین اور حکومت کے رابطہ کی بہترین دلیل ہے ،پیغمبر اکرم (ص)منصب نبوت کے علاوہ اُمت کی امامت اور ولایت کا بھی منصب رکھتے تھے اور یہ حکومت کاقائم کرنا من جانب اللہ تھا کیونکہ آپ دین کو کامل طریقے سے جاری کرنے پر مامور تھے اور دین کا بطور کامل جاری کرنا بغیر حکومت کے ممکن نہیں تھا،جو لوگ دین کو اخلاق اور آخرت میں محدود کرتے ہیں وہ یہ نہیں جانے کہ آخرت اجتماعی روابط کی رہ گذرسے گذرتی ہے (صحیفۂ نور،ج ۹ ، ص۱۳۸)

   اسلامی قوانین میں فردی اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔اجتماعی زندگی میں ان قوانین کا جاری کرناحکومت کا محتاج ہے۔لہٰذا پیغمبر اسلام (ص) نے حکومت قائم کی تاکہ  اسلام کے قوانین کو جاری کرنے کے ذریعے مسلمانوں کی دنیا اور آخرت کی سعادت کی ضمانت لے سکیں۔
پیغمبر اکرم (ص)نے مدینہ میں قیام پذیر ہونے کے بعد دو مہم کام انجام دئیے ۔

۱)  امت اسلامی کی تشکیل 

   لوگ اور آبادی حکومت کے تشکیل دینے کے مہم ترین عناصر ہیں کیونکہ اگر آبادی اور لوگ نہ ہوں تو حکومت کے کوئی معنی نہیں ہوں گے اسی وجہ سے پیغمبر اکرم (ص)نے اخوت اسلامی کی فکر کو ایجاد کر کے مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت برقرار کیا اور اُمت اسلامی کے نام سے قومی اتحاد کی بنیاد ڈالی ۔

۲)   اسلامی حکومت کی بنیاد 

   اس کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے اسلامی افکار  کی بنیاد پر ایک حکومت کی تاسیس کی کیونکہ اسلامی اُمت حکومت اسلامی کی محتاج تھی تاکہ مسلمانوں کے امور کو منظم انداز میں چلایا جا سکے اسی وجہ سے اسلام میں حکومت کی تاسیس خود پیغمبر اسلام  کے سیاسی تفکر کی بنیاد پر وجود میں آئی جس کی ضرورت کا پیغمبر اکرم  نے روزِ اول سے ہی جامعہ بشری کے رہبر کے عنوان سے احساس کر لیا تھا لہٰذاامت اسلامی کی تشکیل کے بعد پہلی فرصت میں ہی اسلامی حکومت کی تشکیل کا اقدام کیا۔

کمنٹس

کمنٹ لکھیں

براہ کرم نوٹ کریں، منظوری کے بعد کمنٹ شائع کیے جائیں گے۔