جمعه  ،05 جون  ،2026ء   |   روزانہ کی حدیث
’’جو شخص اپنے برادر مؤمن پر تہمت و بہتان لگائے وہ اہل دوزخ ہوگا۔‘‘(امام جعفر صادق علیہ السلام) ( ( بحارالا نوار: ج 75، ص 260، ح 58))
Image

کاروان امامیہ ۔عزم،امید،توسیع،تنظیم ،تحرک کے روشن پچاس سال۔۔۔۔کاروان امامیہ۔۔۔پر عزم جدوجہد،لازوال کردار

کاروان امامیہ ۔عزم،امید،توسیع،تنظیم ،تحرک کے روشن پچاس سال۔۔۔۔کاروان امامیہ۔۔۔پر عزم جدوجہد،لازوال کردار

کاروان امامیہ ۔عزم،امید،توسیع،تنظیم ،تحرک کے روشن پچاس سال۔۔۔۔کاروان امامیہ۔۔۔پر عزم جدوجہد،لازوال کردار

  • سید حسنین عارف

از ؛ارشاد حسین ناصر 

بڑھتے رہیں یونہی قدم۔۔حی علی خیر العمل


اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیئے کہ سر زمین پاک کا حصول عظیم مقاصد کیلئے لاکھوں قربانیوں کے حصول کے بعد ممکن ہوا،جس میں تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی اور یہ خطہ ارضی جسے پاکستان کا نام دیا گیا نقشہء  عالم پہ نمودار ہوا،یہ پاک سر زمین جس عظیم مقصد کیلئے حاصل کی گئی اس میں سب سے اہم یہی تھا کہ ہم ایک آزاد و خود مختار مملکت میں اپنے عقائد و نظریات کے تحت اپنی عبادات و رسومات کی روشنی میں زندگی گذار سکیں،جس میں کسی کو کسی کے عقیدہ و نظریہ پہ اعتراض کا حق نہیں ہو گا،قیام پاکستان کے بعد ہماری پاک سر زمین کو منظم سازش کے تحت اس کے قیام کے مقاصد سے دور کر تے ہوئے قوم و ملت کو گروہوں و فرقوںمیں تقسیم کر دیا گیاافسوس یہاں لسانی،صوبائی،علاقائی،عصبیتوں کو پروان چڑھایا گیا،فرقہ وارانہ تعصبات کو فروغ دیا گیا،جو واضح طور پہ بانیء پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی فکر اور علامہ محمد اقبال رح کی بلند سوچو عالی خیالات سے انحراف ہے، نتیجتا ہم دیکھتے ہیں کہ چوہتربرس گذر جانے کے بعدآج ہمارے پاک وطن کو بیرونی دشمن سے اتنا خطرہ نہیں جتنا داخلی دشمنوں سے خطرات ہیں،ملک کو یہ خطرات وقت کیساتھ ساتھ بڑھتے رہے ہیں،جب اس تنظیم کاروان امامیہ  کی بنیاد رکھی گئی تو اس وقت بھی کئی قسم کی خطرات ملک کے تعلیمی اداروں میں نوجوانوں نے محسوس کیئے اور ایک ملک گیر تنظیم کی بنیاد رکھی،یہ وہ زمانہ تھا جب مل میں عمومی طور پہ اشتراکی ںطریات پروان چڑھ رہے تھے اور انکا سب سے زیادہ اثر تعلیمی اداروںمیںموجود ملک کا مستقبل نوجوان طبقہ لے رہا تھا، ایسے ماحول میں چند نوجوانوں نے اپنے دینی درد اور خلوص کی بنیاد پہ اپنے حلقہ ء اثر میں کچھ طلبا ء کو یکجا کیا اور پھر اس دائرہ کی وسعت دینا شروع کیا،

گذشتہ پچاس برس میں معاشرہ سازی بالخصوص نوجوانوں کے حوالے سے اس پلیٹ فارم سے کی جانے والی جدوجہد اور کاوشوں کا مختصر جائزہ ہے۔مختصر اس لیئے کہ پچاس سالہ سفر میں جتنا بھی تحرک ہوا،جو بھی کارہائے نمایاں سر انجام پائے،جس جس شعبہ میں کام ہوا ان سب کو سامنے لانے کیلئے کئی کتب لکھنا ہونی۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان اس مملکت کے باوفا،حقیقی محبان و محافظین اور روشن مستقبل کے حامل طلبہ کی ملک گیر تنظیم ہے جس نے گذشتہ پچاس سال سے اس مملکت خدا داد میں اسلام حقیقی کی ترویج و تبلیغ،انسانی اعلیٰ اقدار و روایات کی پاسداری،مظلومین جہاں سے اظہار یکجہتی و امداد،طالبعلموں کی فلاح و بہبود اور عملی رہنمائی،امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات کے حل کیلئے عالمی سطح پہ کی جانے والی کوششوں سے یکجہتی،فلسطین و کشمیر سمیت امت مسلمہ کے دیرینہ مسائل کیلئے عالمی سطح پر آواز اٹھانے اور ان مظلوموں کی مدد و نصرت ،اتحاد بین المسلمین اور وحدت امت کیلئے شب و روز خدمات سر نجام دینے ، اور استعمار و استکبار کی عالم اسلام،ارض پاک اور مکتب کے خلاف سازشوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کا کردار ادا کرتے آ رہے ہیں،امامیہ طلبا ء کی یہ جدوجہد اورتحریک گذشتہ پچاس برس سے جاری ہے اس میں ایک طرف تو اس کاروان کے وہ لاکھوں ممبران شامل ہیں جو اعلی ٰ تعلیمی اداروں سے فراغت کے بعد دنیا بھر میں اپنے علم و عمل اور تعلیم و ہنر سے لوگوں کو بہرہ مند کر رہے ہیں تو دوسری طرف اس الہیٰ پلیٹ فارم سے مستفید ہونے والے عام لوگ ہیں جو معاشرہ سازی کے اس نظام سے مستفید ہو کر سوسائٹی کا ایک توانا بازو بنے ہوئے ہیں۔

آئی ایس او پاکستان کی تاریخی وچیدہ چیدہ خدمات ،کارہائے نمایاں ،ملت پر اس کے مثبت و دیرپا اثرات کو اگر انتہائی جامع اور مختصر ترین الفاظ میں بیان کیا جائے تو 22 مئی 1972ء کو یہ کارروان باقاعدہ طور پر قائم ہو گیا تھا اور اپنی تاسیس کے ساتھ ہی اس کے ذمہ داران نے اس کی وسعت  اور توسیع کیلئے کوششیں شروع کر دی تھیں ،اس سے قبل مختلف ناموں سے جو کارروان لاہو ر کے کالجز کی سظح پر کام کر رہے تھے سب اس میں ضم ہو گئے تھے یہ شیعہ طلبا ء کا پہلا ملک گیر پلیٹ فارم تھااس سے پہلے قومی سطح پر بہت محدودلوگ شیعہ مطالبات کمیٹی کے نام سے ایک تحریک چلا رہے تھے جن کی سوچ محدود تھی اور ان کے پاس قوم کی ترقی و تعمیر اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کا کوئی واضح برنامہ، ہدف و پروگرام نہیں تھا، اس تنظیم نے اپنے قیام کے بعد روز بروز پیش رفت کی اور 1974ء میں اس تنظیم سے فارغ التحصیل ہونے والے برادران کی کو ششوں سے ہی سابقین کا ایک پلیٹ فارم امامیہ آرگنائزیشن پاکستان کا قیام ممکن ہوا، علماء کرام کی توقیر بڑھانے کی منصوبہ بندی ہو یا قومی سطح پر انہیں فعال کرنے کی بات،بامقصد عزاداری کا فروغ،نماز دوران جلوس کے پروگرام، نوجوانوں کی تعلیم و تربیت ،اصلاح نفس ،بلندی کردار،بیداری ملت کیلئے تعلیمی ورکشاپس کا انعقاد،تربیتی نشستوں کا اہتمام ،اخلاقی محافل کے مواقع ،دعا و مناجات کے کلچر کا فروغ مقصد کربلا سے آگاہی کی مہم اور کربلا شناسی کے مقابلہ جات ،نوجوانوں کو متحرک و فعال رکھنے کیلئے شعبہ اسکائوٹنگ کا قیام اور اسکائوٹ کیمپس کا انعقاد ، تعلیمی اداروں میں طلباء کے مسائل کے حل کیلئے فعالیت،رہنمائے تعلیمی کتابچہ ،تعلیمی کنونشنز کے ذریعہ ماہرین تعلیم سے تعلیمی رہنمائی ،کیرئیر گائیڈنس ،متحدہ طلباء محاذ کے ذریعہ دیگر طلباء تنظیموں سے بھر پور تعلقات اور طلباء مسائل کے حل کیلئے متفقہ لائحہ عمل کی تشکیل میں کردار ہر ایک پر آشکار ہے۔

تعلیمی اداروں میں پیغام کربلا کی ترویج کا ذریعہ

پاکستان میںتعلیمی اداروں کالجز ویونیورسٹیز میں اس کارواں کی بدولت ہی پیغام کربلا کی تشہیر و تبلیغ اور ترویج ممکن ہوئی،چونکہ امامیہ طلبا ء اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بڑی تعداد میں موجود تھی تو اس کے کارکنان و ذمہ داران نے اپنے اپنے علاقوں و شہروں کے تعلیمی اداروںمیں ایام محرم میں خصوصی طور پہ یوم حسین ؑ،حسین ؑسب کا ،جیسے عناوین کے تحت سیمینارز اور کانفرنسز کے ذریعے ترویج پیغام کربلا کا کام انجام دیاجاتا ہے،ملک کے اہم شہروں کی بڑی یونیورسٹیز میں یوم حسین ؑ و یوم مصطفیٰ کا انعقاد مختلف مکاتیب فکر سے تعلق رکھنے والے طلبا ء و اساتذہ میں باہمی تفریق ختم کرنے کا بہترین موقعہ و ذریعہ ثابت ہوتا ہے،ان سیمینارز و کانفرنسز میں مختلف مکاتیب فکر کے علما ء،دانشور اور اساتذہ اپنی گفتگو سے امام حسین ؑ اور انکے باوفا اصحاب کی میدان کربلا میں پیش کی جانے والی عظیم قربانیوں کے مقصد کو بیان کرتے ہیں۔

اجتماعی پلیٹ فارمز کی تشکیل و تنظیم اور توسیع میں اہم کردار

 ہماری قومی و اجتماعی زندگی کا نیا دور اس وقت شروع ہوا جب جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا 11سالہ دور 1977 ء میں ایک منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا گیا، جنرل ضیا ء الحق نے بد ترین مارشل لاء نافذ کررتے ہوئے اپنی کرسئی اقتدار کو دوقام بخشنے کیلئے ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم بندی کے لیئے کئی ایک اقدامات کیئے اور اس کے دور میں ہی کئی مقامات اور شہروں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑائیاں شروع ہو گئی تھیں۔ زکوٰۃ کے مسئلہ پر احتجاج اور ملک میں فقہ حنفی کے نفاذ کی سازش اور خطرات کو بھانپتے ہوئے اس کاروان کے راہیوں نے قومی سطح پر  TNFJکی صورت میں 1979ء میں قومی پلیٹ فارم کی تشکیل میں اہم اور بنیادی کردار ادا کیا اس کردار کو تاریخ میں کوئی مٹا نہیں سکتا، مفتی جعفر حسین قبلہ کی قیادت میں ضیائی مارشل لاء کے خلاف 1980ء میںاسلام آباد کے عظیم قومی اجتماع کا انتظام و انصرام اور کفن پوش دستوں کی تشکیل اور پروگرام کو کامیاب کرنا اسی تنظیم کا کام تھا،یہ ایک ایسا کام تھا جس نے ملت تشیع کو سیاسی طور پہ مضبوط ہونے کیلئے بنیادیں فراہم کیں،یہ ایک ایسی مثال کے طور پہ قوم و ملت کے سامنے آیا کہ جس کی کامیابی سے آج بھی ہم مستفید ہوتے ہیں اور اجتماعی امور میں فعالیت دکھانے والوں کو ایک ہمت و حوصلہ ملتا ہے ،مفتی جعفر حسین قبلہ کی بیماری اور بعد ازاں رحلت کے بعد 10 فروری 1984ء کو بھکر کنونشن میں انقلابی فکر کی حامل قیادت علامہ سید عارف حسین الحسینی کی بھر پور اور بلا مشروط حمایت،شہید کی قیادت میں ساڑھے چار برس تک ملک بھر میں قومی پلیٹ فارم کو متحرک کرنا اور جگہ جگہ پر شہید کے استقبال، قرآن و سنت کانفرنسز ،لاہور،فیصل آباد، ملتان ،ڈیرہ اسماعیل خان میں امامیہ نوجوانوں نے ہی ان تاریخی پروگراموں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے اپنا خون پسینہ خرچ کیا ،اس وقت تحریک کا سیت اپ اس قدر منظم و مربوط نہیں تھا،اکثر جگہوں پہ امامیہ برادران ہی فعالیت سے تحریکی کام اور امور انجام دیتے تھے ،بلکہ یہکہا جائے تو بے جا نا ہوگا کہ تحریک کی تنظیمی توسیع میں امامیہ برادران نے بڑھ چڑھ کے کردار ادا کیا،اور چاروں صوبوں قبائلی و شمالی علاقہ جات نیز آزاد کشمیر میں بھی شہید قائد کے دورہ جات کامیابی سے ہوئے۔آئی ایس او کا یہ کریڈت کوئی چھین نہیں سکتا کہ کسی بھی اجتماعی تحرک اور تنظیمی و جماعتی ،تحریکی مووومنٹ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور اسے ملکی سطح کی نمائندگی تک پہنچانے کیلئے اس کا وسیع تنظیمی نیٹ ورک ہراول دستے کے طور پہ سامنے رہا ہے،یہی وجہ تھی کہ جب آئی ایس او نے تحریک کی قیادت سے علیحدگی اختیار کی تو قومی سطح کی جماعت ان لوگوں کے ہاتھ میں چلی گئی جو عملی طور پہ تحریک کے مخالف تھے،جن کی وجہ سے قائد شہید نے تحریک کی قیادت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

استعمار شناسی و مخالفت؛

 1979ء میں پاکستان کے ہمسائے ملک ایران میںعظیم انقلابی و روحانی رہنما امام خمینی کی قیادت میں آنے والے بے مثال اسلامی انقلاب سے قبل اس شخصیت کی حمایت کا اعلان کیا گیا تھا یہ اس تنظیم کی حق پرستی،طاغوت دشمنی اور استعمار مخالفت کا اول روز سے موقف کی تائید ہے کہ امام خمینی جب جلا وطن  ہو کے فرانس چلے گئے تو ایک وفد جس کی قیادت مولانا صفدر حسین نجفی نے کی تھی ان کے ہاتھ امام خمینی کی حمایت و تعاون کا یقین دلانے کیلئے ایک خصوصی خط لکھا گیا تھا،ایسا شاید کسی نے بھی اس پاک سر زمین پہ نہیں کیا ہو گا ،کہ انقلاب و امام کی حمایت قبل از انقلاب کی گئی، 1978ء میں انقلاب سے قبل انقلاب اسلامی کے قائد امام خمینیؒ کی حمایت میں لاہور کی مال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کا شرف اسی کارروان کو حاصل ہوا ،اس مطاہرے میں کچھ گرفتاریاں بھی ہوئی تھیں،شائد لاٹھی چارج بھی ہوا تھا اس وقت لاہور کے خانہ فرہنگ میں چونکہ شاہ کا نمائندہ موجود تھا،میں سمجھتا ہوں وہ لوگ آج کے پیروان ولایت کے دعویداروں سے کہیں زیادہ آگاہ،متعہد اور مخلص تھے،ان لوگوں نے انقلاب کے ثمرات کو دیکھا تھا اور نہ چکھا تھا آج کی طرح ان کے پاس وسائل بھی نہیں ہوتے تھے ان کے پاس بسیجیوں جیسی آئیڈیل فورس بھی نہیں تھے جن کی مثال دیکر نوجوانوں کو متوجہ کیا جاتا ،جو کچھ بھی تھے یہ خود تھے اور ان کی سرپرستی کرنے والے گنتی کے چند علماء تھے جو ان نوجوانوں کو دینی تربیت اور فکری غذا فراہم کرتے تھے۔ اس بات کا اعتراف کیئے بنا آگے نہیں بڑھ سکتے کہ یہی وہ کاروان تھا جس نے یونیورسٹیز اور کالجز کے طلبا ء ہوتے ہوئے عالمانہ کردار ادا کیا اور امام خمینی کی انقلابی سوچ و افکار کی تبلیغ کا بیڑا اٹھایا در حالینکہ ان نوجوانوں کو ولایت کے درس دینے والے ہی نظر نہیں آتے تھے،جبکہ ان کی مخالفت کا دم بھرنے والے بہت سے اہل تشیع موجود تھے ۔بعد از انقلاب تو ساری دنیا ہی انقلابی بن کے سامنے آ گئی تھی مگر انقلاب سے قبل انقلاب کی حمایت کا سہرا اسی کاروان امام زمان عج کے شیروں کو ہی حاصل ہے۔اور جب انقلاب برپا ہوا،شاہ  ایران سے بھاگ گیا تو نوزائیدہ انقلاب اور اس کے پیغام کی مکمل حمایت کیساتھ انقلاب کے تعارف کیلئے گائوں گائوں ،قریہ قریہ پروگرام منعقد کیئے جاتے تھے،اسی دوران جب ایران اسلامی پہ جنگ مسلط کی گئی تو یہی وہ نوجوان تھے جنہوں نے اس پاک سر زمین پہ آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے خلاف تظاہرات اورمظلوم ایرانی بھائیوں کی اخلاقی و عملی مددکا بیڑہ اٹھایا اس راہ میں اس کاروان کو اپنوں سمیت سب کے طعنے بھی سننا پڑے مگر استعمار سے نفرت اور دشمنی جسے اس تنظیم کے نوجوانوں کی گھٹی میں ڈالا گیا تھا بھلا کیسے وقت کے ولی کو تنہا چھوڑ سکتے تھے لہذا یہ حمایت وقت گذرنے کیساتھ ساتھ آج بھی مضبوط اور قوی ہوئی ہے، امریکہ کی عالم اسلام کے خلاف بڑھتی ہوئی جارحیت اور سازشوں کے خلاف سینہ سپر ہونا اور پاکستان کی سڑکوں پر امریکہ کے پرچم کو جلانے کی روایت جب کوئی بھی اس کا م پر آمادہ نہ ہوتا تھابلکہ شرعی دلیلیں دیکر اسے منع کیا جاتا تھا اس تنظیم کے کارکنان کا شیوہ تھا یہ لوگ ہمیشہ اپنے دشمن کو شناخت کر کے اس کے خلاف برسر پیکار رہتے تھے ،بیت المقدس پر اسرائیل کے ناجائز قبضہ کے خلاف جمعۃ الوداع کو عالمی یوم القدس اور 16 مئی کو بفرمان شہید قائد یوم مردہ باد امریکہ منانے کا رواج و روایت بھی اسی کارروان نے شروع کی تھی جو آج تک جاری و ساری ہے۔

شہید قائد کا قتل کیس اور تنظیم؛

 قائد محبوب علامہ عارف الحسینی کی الم ناک اور عظیم مظلومانہ شہادت کے بعد شہید کے کیس کی مکمل پیروی اور قاتلوں کو انجام تک پہنچانے کیلئے اسلام آباد سیکرٹریٹ کا گھیرائو،اجتماعات ،مظاہرات تسلسل سے منعقد کیے جاتے رہے،جو ایک ریکارڈ ہے ، حکمران اور قاتل ٹولہ اس قتل کیس میں عالمی کرداروں کے ملوث ہونے کی وجہ سے اسے چھپانا چاہتے تھے اور ملوث کرداروںکو بچانا چاہتے تھے مگر امامیہ نوجوان ہی تھے جنہوں نے سر پہ کفن باندھ کے پورے ملک میں عموما ًاور اسلام آباد میں خصوصا ً مظاہرے منعقد کیئے اور عالمی سطح پہ میڈیا کوریج حاصل کی ،جس کا پریشر بہر حال حکومتوں اور عدالتوں پہ آیا،اور اہم کردار گرفتار ہوئے،یہ الگ بات کہ اس ملک کا نظام انصاف اس عالمی سطح کے کیس میں انصاف مہیا کرنے میں ناکام رہا اور تمام اعترافات اور ثبوتوں کے باوجود قاتل با عزت بری ہو گئے مگر اللہ کی عدالت تو باقی ہے،اسیطرح امام خمینی نے شہیدس قائد کے چالیسویں کی مناسبت سے اہم پیغام جاری کیا اور فرمایا کہ شہید کے افکار کو زندہ رکھیں اس حکم کی تعمیل میں تنظیم گذشتہ تینتیس برس سے کام کر رہی ہے اور ایک لمحہ کیلئے غفلت نہیں برتی،شہید کے افکار و کردار کی امانت کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کے فریضہ کی ادائیگی میں مصروف عمل دیکھا جا سکتا ہے،امامیہ برادران و خواہران آج بھی قائد محبوب کی یادوں خے چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں اور شہید کے افکار و کردار کی روشنی میں ولایت فقیہ کی پیروری کرتے ہوئے ولی امر مسلمین جہاں سے اپنے عہد کو نبھا رہے ہیں۔

طلبا ء کی تعلیمی رہنمائی اور مدد؛

آج مہنگائی کا دور ہے،تعلیم بھی اب کمرشلائز ہو چکی ہے ایسے میںطلباء کا سب سے اہم مسئلہ انہیں بھاری فیسز میں مدد اور تعلیمی گائیڈنس یعنی کیریئر گائیڈنس ہوتی ہے اس حوالے سے تنظیم روز اول سے خدمات سر انجام دے رہی ہے،ایک زمانہ تھا کہ نوٹس فراہم کیئے جاتے تھے اب تو ڈیجیٹل دور ہے،اب تو آن لائن ورکشاپس کروا کے دنیا بھر میں بیٹھے لوگوں کو باہم مربوط کر کے اچھے سے اچھے اور اعلی ٰ دماغوں سے رہنمائی لیتے ہوئے طالبعلموں کو رہنمائی فراہم کی جاتی ہے،تعلیمی میدان میں ہزاروں طلباء کو قرض حسنہ کی صورت میں اسکالر شپس کا اجراء اورا علیٰ تعلیمی  اداروں میں تعلیم کے حصول کیلئے داخلہ فیسز کی ادائیگی اور مالی معاونت کا ایک منظم نظام قائم ہے جس میں ہر سال سینکڑوں طلبا ء مستفید ہوتے ہیں،جن میں لاکھوں روپے تقسیم کیئے جاتے ہیں۔باڈی آف لٹریسی ڈیولپمنٹ ( بولڈ) کے تحت اسکالرشپس(قرض حسنہ) اور تعلیمی رہنمائی کا سلسلہ ملک بھر کے طلبا ء کیلئے جاری و ساری ہے۔

شعبہ طالبات؛

 برادران کی طرح خواہران کیلئے شعبہ طالبات کی صورت میں الگ سے مکمل نظم قائم ہے طالبات میں پیغام کربلا کی تشہیر اور زینبی کردار کی حامل بہنوں کی تربیت کیلئے پلیٹ فارم ،علماء کی سرپرستی و رہنمائی میں ایک مضبوط ،قوی اور با اثر و باشرف ملت کی تشکیل کیلئے ہمہ تن کوششیںا ور جدوجہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، تعلیمی اداروں میں نظریہ ولایت فقیہہ پر کاربند و عمل پیرا اعلیٰ تعلیم یافتہ خواہران  اس وقت اپنا انتالیسواں مرکزی کنونشن منعقد کر ہی ہیں جو ایک ریکارڈ ہے ،طالبات یا خواتین کے حوالے سے ہماری ملت میں شائد یہ واحد سیٹ اپ ہے جو اتنے عرصہ سے ملکی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے حی علی خیر العمل کی صدائوں میں  منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

سوشل ورک یا فلاحی امور؛

ملک میں کہیں بھی کوئی آفت یا مصیبت آئے تو امامیہ برادران اپناکردار ادا کرنے کیلئے تڑپ محسوس کرتے ہوئے میدان میں نظر آتے ہیں،بالخصوص پاکستان کے کسی بھی کونے میں سیلاب،زلزلے اور دیگر کسی بھی آفت میںامامیہ اسکائوٹس یا رضا کار ایثار و قربانی کا نمونہ بن کے سامنے آتے ہیں،کشمیر میں آنے والے زلزلہ اور ملک میں آنے والے بد ترین سیلاب میں اس کاروان نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کر خدمات سرانجام دیں اور کئی ایک مثالیں قائم کیں، یہ ہماری قومی تاریخ کے ماتھے کاجھومر ہیں ۔

علما ء کی سر پرستی و قربانیاں؛

کسی بھی تنظیم یا پلیٹ فارم کیلئے اس کے نظریئے کی بقا،اہداف کے حصول اور مقاصد کی تکمیل کیلئے قربانیاں پیش کرنے والوں کی بے حد اہمیت اور قدر و منزلت ہوتی ہے،انہی کی بدولت پلیٹ فارم اور تنظیمیں یا تحریکیں پروان چڑھتی ہیں اور ان کو عوامی پذیرئی میسر آتی ہے،آئی ایس او پاکستان بھی اپنے آگاز سفر سے ہی ایسے ہی جذبوں سے سرشار نوجوانوں کا ایک پر عزم کاروان تھا جس کے سائے تلے ہر ایک کارکن اپنی جان قربان کرنے کیلئے اور اپنے وقت و مال کی قربانی دینے کیلئے کمر بستہ دکھائی دیتا تھا۔اس نحیف، نرم ،نازک اور کمزور پودے کو زمانے کی باد ِ مسموم سے بچانے اور تواناو مضبوط، طاقتورو قوی ،سایہ دار وجانداربنانے اوراس نوخیز پودے کوٹوٹنے ، جھکنے ، بکھرنے سے بچانے کیلئے یوں تو ان پینتالیس برسوں میں ہزاروں نوجوانوں ،بھائی بہنوں نے اس کی بنیادوں کو اپنے خون پسینے سے سینچا اور اپنی طاقت و قوت سے بڑھ کر اپنا دم اور زور لگایا مگر اس کی بنیادوں کو اپنے خون سے سینچنے والوں میں سب سے بڑی قربانی تنظیم کے بانی اورہم سب کی سب سے پسندیدہ شخصیت ، سفیر انقلاب ڈاکٹر محمد علی نقویؒ نے دی، قربانیوں کے پیش کاروں میں راجہ اقبال حسین، سیدتنصیر حیدر، ڈاکٹر قیصر عباس سیال ،برادر اعجاز حسین رسول نگری ،پروفیسر نزاکت علی عمرانی،برادر اسرار حسین،برادر ناصر صفوی، کے نام بھی روشن و تابندہ ہیں۔ جبکہ اس کاروان الہٰی کو آغاز سفر سے اپنے علم ،شعور ،اور تقوی سے سیراب کرنے والے علماء کرام میں مرحوم آغا علی الموسوی،قبلہ مرتضیٰ حسین صدرالافاضل،قبلہ مولانا صادق نجفی ،قبلہ علامہ صفدر حسین نجفی، مولانا امیر حسین نقوی اور کچھ دیگر علماء کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،علما ء کرام کی یہ فہرست بہت طویل ہے چونکہ تنظیمی اسٹرکچر ڈویژنل سطوح پہ مشتمل ہے تو ڈویژنل مقامات پہ تنظیم کیساتھ منسلک علماء و روحانیوں کی بہت طویل فہرست ہے جو امامیہ برادران کی سرپرستی فرماتے ہیں اور نوجوان جب بھی انہیں یاد کرتے ہیں یہ دردمندان پہنچ جاتے ہیں،اسیطرح تنظیم کی ایک بہت بڑی کامیابی اور کارکردگی جس کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے وہ گزشتہ تیس برس کے دوران ایسے علما ء کی تیاری ہے جو پاکستان کی اعلی ٰ یونیورسٹیز اور کالجز سے دنیاوی علوم مکمل کرنے کے بعد حوزہ علمیہ قم تشریف لے گئے اور وہاں سے متخصص بن کے پاکستان تشریف لائے اور مثالی مدارس قائم کیئے،جن سے نظریاتی و فکری ،پیروان ولایت دینی طلاب تیار ہوتے ہیں۔

آئی ایس او ٹرینڈ سیٹر،رہنمائی کا روشن استعارہ؛

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیںکہ یہ تنظیم گذشتہ پچاس سال سے ملی واجتماعی امور اور تنظیمی و تحریکی جدوجہد میں کام کرنے،امور کو منظم کرنے،کوئی تحریک چلانے،عوام و خواص کو ساتھ ملانے،میڈیا میں کوریج لینے اور ملکی و عالمی سطح تک کوئی بھی آواز پہنچانے کے حوالے سے ایک روشن مثال کے طور پہ ہم سب کے سامنے ہے،کسی نے بھی پاکستان یا پاکستان سے باہر کوئی اجتماعی کام،تنظیم،انجمن یا کوئی سیاسی و اجتماعی بلکہ ادارہ جاتی کام کرنا ہو تو اس کی پہلی ترجیح یہی رہی ہے کہ اگر اس تنظیم سے تربیت یافتہ برادران وخواہران میسر آ سکیں تو ان کو اپنے ساتھ ملایا جائے،جو کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں جبکہ یہ بات بھی کسی سے محو نہیں کہ اس تنظیم سے فراغت کے بعد عملی زندگی میں جانے والوں نے ہی بڑی بڑی تحریکیں،تنظیمیں،ادارے،سوشل سیٹ اپ،ویلفیئر آرگنائزیشنز چاہے وہ طب کامیدان ہو یا تعلیم کا امامیہ برادران نے قوم کو دیئے ہیں،آئی ایس او سے پہلے ہماری قوم میں منظم دروس کے پروگرام کہیں بھی نہیں ہوتے تھے،اس طرح کا انداز سب سے پہلے امامیہ برادران نے ہی اختیار کیا وگرنہ ہمارے ہاں تو چند مدارس تھے یا پھر منبر تھا جہاں سے مجالس کے ذریعے ہی قوم کی مذہبی پیاس بجھائی جا تی تھی،یہ امامیہ برادران کا شرف ہے کہ انہوں نے نوجوانوں کے منظم دروس کا سلسلہ شروع کیا،اسیطرح ہماری عزاداری کی محافل و مجالس مین نماز کا پہلو بہت کمزور تھا بلکہ اتنا کمزور دکھتا تھا کہ دوسرے مکاتیب فکرہمیں طعنے دیتے تھے کہ شیعہ نماز نہیں پڑھتے،اس تنظیم نے با مقصد عزاداری کے فروغ کیساتھ ساتھ نماز دوران جلوس کا سلسلہ شروع کیا،جو لاہور اسلام پورہ کے جلوس سے شروع ہوا ،اس کیلئے اس تنظیم کو بہت قربانیاں دینا پڑیں،ماریں کھائیں،پرچے جھیلے،جیل کی ہوائیں بھی کھائیں ،الحمد للہ اس وقت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے اہم جلوسوں میںنماز باجماعت کا خصوصی اہتمام کیاجاتا ہے ،جس کا اجر و اثر تنظیم کی توسیع و مضبوطی کی صورت دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک دستور،ایک نصب العین ایک انفرادیت؛

عام طور سے تنظیمیں وجود میں آتی ہیں ،ان کا دستور و نصب العین منظور ہوتے ہیں مگر کچھ عرصہ کے بعدتنظیم کمزور اور شخصیات مضبوط ہو جاتی ہیں پھر دستور ایک طرف اور شخصی پسند و ناپسند ہی آئین و قانون بن جاتے ہیں مگر آئی ایس او پاکستان پاکستان میں واحد طلبا تنظیم ہے جس نے اپنے دستوری سفر کو نہایت ہی خوش اسلوبی سے طے کیاہے،ان پچا س برس میں دستور میں ترامیم تو ہوئیں مگر اس میںکسی قسم کی بنیادی تبدیلی نہیں آئی،ہاں پالیسیاں تبدیل ہو کے منظور ہوتی رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ پچاس سال گذر جانے کے بعد بھی تنظیم اپنا مستحکم و مضبوط تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھے ہوئے ہے،ایک اور بات جو اسی ذیل میں کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ عمومی طور پہ پہلے سیاسی و قومی جماعتیں وجود میں آتی ہیں جو اپنی مدد اور مضبوطی کیلئے طلبا ء ونگ تشکیل دیتے ہیںیہاںمعاملہ اس سے الٹ رہا ہے،پہلے طلبا تنظیم بنی جس نے پورے ملک میں اپنے یونٹ و ڈویژنز قائم کیئے جب طلبا ء مضبوط ہو گئے تو انہوں نے ایک قومی جماعت کی ضرورت محسوس کی جو ان کیلئے دینی رہنمائی کیساتھ ساتھ ملی و قومی امور کو سنبھال سکے ،اس انفرادیت کی وجہ سے اس کاروان الہٰی کو پچاس سال ہونے کو آئے ہیں تمام تر سازشوں اور بد خواہوں کی خواہشوں کے باوجود یہ کارواں رواں دواں ہے اور امنزل کی جانب بڑھ رہا ہے۔

مرکزی کنونشنز کی روایت؛

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان واحد طلبا ء تنظیم ہے جو گذشتہ پچاس برس سے مسلسل اپنا مرکزی کنونشن منعقد کر رہی ہے،موجودہ کنونشن پچاسواں سالانہ مرکزی کنونشن ہے جو منعقد ہو رہا ہے،یہ ایک سعادت اور قومی و ملی ریکارٹ و تاریخ ہے کہ طالبعلم ہوتے ہوئے بھی اس کاروان نے اپنی روایات کو زندہ رکھا ہے اور اپنے دستوری تقاضوں کو ہمیشہ پورا کیا ہے۔مرکزی کنونشن کا مطلب ہے کہ سال بھر کی کارکردگی کا محاسبہ،تجدید عہد اور تربیت و تعلمنیز مرکزی کنونشن میں شریک ملک بھر کے نمائندہ اجلاس مرکزی عمومی کے ذریعے نئے میر کاروان یعنی مرکزی صدر کا انتخاب و اعلان،مرکزی کنونشن کی یہ روایت رہی ہے کہ ہر سال کسی نا کسی اہم عنوان کا انتخاب کیا جاتا ہے اسی منظور شدہ نام سے کنونشن منعقد ہوتا ہے ماضی میں پیروان ولایت،نوید انقلاب،فتح مبین ،عظمت اسلام،منتظرین مہدی،قرآن نور ولایت کنونشنز منعقد کیئے گئے۔مرکزی کنونشن میں چونکہ ملک بھر کے طلبا ء شریک ہوتے ہیں،تنظیم کے سینئرز تشریف لاتے ہیں اسلیئے نئے برادران کو سیکھنے ،سمجھنے کا بہت زیادہ موقعہ ملتا ہے،مرکزی کنونشن پہ شہدا ء،اسیران،اور ملت کے محسنین کے حوالے سے خصوصی پروگرام منعقد کیئے جاتے ہیں جو بعد ازاں ڈویژنل کنونشنز پہ بھی منعقد ہوتے ہیں،الحمد للہ ہمیں اپنی اس جہدمسلسل اور اس کے حصول کیلئے دی جانے والی قربانیوں پہ فخر ہے ،ہم فخر کرتے ہیں کہ ہم اس ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی پاسبانی کیساتھ ساتھ عالم اسلام کے فعال و متحرک نظام ،نظام ولایت فقیہ کا حصہ ہیں جس نے دنیا بھر میں استعمار اور اس کے پروردہ ایجنٹوں کو ناکوں چنے چبانے پہ مجبور کیا ہے،ہم ارض مقدس فلسطین،جنت ارضی کشمیر اور دنیا بھر میں غاصبانہ قبضوں اور ظالمین کی سر کوبی کیلئے مقاومت اسلامی اور ولی امر مسلمین کی رہبری میں کی جانے والی ہر کوشش و کاوش میں اپنا حصہ ڈالنا فخر محسوس کرتے ہیں،

مرکزی سیکریٹیریٹ اور ڈویژنل و صوبائی مقامات پہ دفاتر؛

طلبا ء تنظیم ہونے کے باوجود اس کاروان امامیہ نے اپنے محدود وسائل رکھتے ہوئے بھی ان پچاس برسوںمیں تنظیم کا مرکزی دفتر ایک فعال ادارے کے طور پہ قائم رکھاہے،وقت کیساتھ ساتھ اس کیک ارکردگی میں بہتری دیکھی گئیہے،مرکزی دفتر کسی بھی تنظیم کی فعالیت،روابط اور کارہائے دیگر کیلئے اہم کردار ادا کرتا ہے ہے،آئی ایس او کا مرکزی دفتر ؛المصطفے ہائوس ؛ کے نام سے پہچانا جاتا ہے،پچاس سالہ کنونشن منعقد کرتے ہوئے ہم یہ بات فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت لاہور میں مرکزی دفتر کے ساتھ ساتھ ملتان،کراچی،سرگودھا،لیہ،گلگت،پاراچنار میں اپنے ٹرسٹ کے دفاتر موجود ہیں،جہاں روزانہ کی بنیاد پہ نوجوان فعالیت سے مصروف عمل رہتے ہیں جن ڈویژنز میںدفاتر نہیں ہیں وہاں کرائے کی عمارات میں دفاتر موجود ہیں اور کئی ایک جگہ پہ اپنی زمین خرید کے دفاتر بنانے کی منصوبہ ہو رہی ہے۔

شعبہ جات کا قیام اور فعالیت؛

عمومی طور پہ ماہرین سے یہ کہتے سنا ہے کہ تنظیم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور اپنے کاموں میں استقلال اور دیر پائیگی کیلئے شعبہ جات قائم کرنے ضروری ہوتے ہیں،آئی ایس او نیاس حوالے سے بہت پہلے سے اس بات کو سمجھ لیا تھا اور اپنے مختلف شعبے قائم کر کے کاموں کو منظم کیا ،ادارہ المہدی شعبہ تربیت،شعبہ توسیع ادارہ پیام عمل،شعبہ تعلیم باڈی آف لٹریسی ڈیولپمنٹ،ادارہ العارف پبلیکیشنز،امامیہ میڈیا ہائوس،اپنے اپنے دائرہ میں فعالیت سے کام کر رہے ہیں،ادارہ  العرف پبلیکیشنزکے تحت ایک ماہانہ رسالہ بنام ؛ ماہنامہ افکار العارف لاہور؛ 1989ء سے شائع ہو رہا ہے،در اصل قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی رح کی المناک شہادت کے بعد تنظیم نے اپنے ترجمان مجلہ ؛راہِ عمل؛ کو ماہنامہ العارف کے نام سے ناقاعدہ ڈیکلریشن لے کے شائع کرنا شروع کیا،1989ء سے لیکر 2008ء تک اسی نام سے مجلہ شائع ہوتا رہا،جس کے بعد بعض مسائل سامنے آئے تو اس کا ڈیکلریشن کینسل ہو گیا جسے نئے ڈیکلریشن افکار العارف کے نام سے جاری رکھا ہوا ہے  جو پاکستان کے دینی جرائد میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے

اس برس تنظیم کا گولڈن جوبلی50واں سالانہ  مرکزی کنونشن منعقد ہوا یعنی اس کاروان الہیٰ کو تاسیس ہوئے50 برس ہونے کو آئے ہیں الحمد للہ اب یہ پوداخوبصورت،مہکتا مضبوط تناور،شجر سایہ دار کی صورت میں ہر سو نظر آتا ہے۔  اپنے کردار، عمل ،نظریہ اور قوت اور نظم کے بل بوتے پر آج پوری قوم اس تنظیم سے ایسے ہی مستفید ہو رہی ہے جس طرح کسی تناور، مضبوط اور گھنے درخت کی چھائوں سے تپتی دھوپ میں مستفید ہوتی ہے ۔ اب یہ ایک ایسا کارواں بن چکا ہے جس میں شریک ہر ایک مسافر نے اسے منزل پر پہنچانے کے عہد کو نبھانے کی ٹھان لی ہے۔ گزشتہ پچاس برس گواہ ہیں کہ اس ملت پر جب بھی کڑا وقت آیا ہے تو امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ہی قوم کی توقعات پر پورا اتری ہے اور مستقبل میں بھی یہی کارروان ملت،مکتب،اور پاکستان میں اسلام ناب محمدی،ولایت کے عشاق و پیروان کی امیدوں کا مرکز و محور ہے ۔تنظیموں اور تحریکوں کے ذمہ داران کو یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ان کے ایثار گر اور قربانیاں پیش کرنے والے ان کے محسن ہیں جن کا نام اور ایثار گری کی داستانیں اگلی نسلوں تک پہنچانا تاکہ وہ ان سے رشد و رہنمائی لیکر سچے جذبوں کیساتھ کام کو آگے بڑھائیں بے حد ضروری و واجب امر ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ اس تمام عرصہ کے دوران اس ملت پر بڑے کٹھن دور بھی آئے ہیں، بہت مشکل اور کڑے لمحے جب فیصلے کی قوت جواب دے جاتی ہے ،جب مایوسیاں گھیر لیتی ہیں، جب ایمان کمزور پڑ جاتے ہیں بلکہ ایمان ڈول جاتے ہیں ،جب ملت امتحان یا آزمائش کا سامنا کرتی ہے۔ جب قیادتیں اپنا اعتماد کھو بیٹھتی ہیں ۔ ایسے ادوار اور مشکل لمحات کو بھی اس کارروانِ الٰہی نے بے حد خوبصورت انداز میں گذارا ہے آج تک کئی ایک تاریخی بحرانوں سے کامیابی سے نکل جانے کے بعد اکثر ہمارے برادران اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ، اس کا رروان ِ الٰہی پر یقینا حضرت حجتؑ کا خاص لطف اور نظر ہے ،اسی وجہ سے تمام تر مشکلات ،مسائل، مصائب ، اور ناگفتہ بہ احوال کے باوجود یہ کاررواں " حی علیٰ خیر العمل" کا پرچم لہراتا آگے بڑھتا دیکھا جاسکتا ہے۔انشا ئاللہ ہم آگے بڑھتے رہیں گے اس منزل کی طرف جس کی بشارت و خوشخبری اللہ اور اس کے پاک پیغمبر ؐ نے دی ہے، زمین کو عدل وانصاف سے بھر دینے کا وعدہ اور ظالمین کی ہمیشہ کیلئے نابودی کی خوشخبری، یہ وعدہ جلد پورا ہو گا اور ہم جو ایک جیسے(i so) ہیں اس وقت بھی حکم خدا کے نافذ کرنے والی ہستی کے ساتھ ایک ساتھ اور ایک جگہ ہوں گے کیا خوبصورت اور روحانی و معنوی کیفیات و لمحات اور مناظر  ہوں گے جب ہم شہید قائدعلامہ سید عارف حسین الحسینی رح او ر شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی معیت میں حضرت امام خمینی رح کی رہبری و قیادت میں حضرت حجتؑ کی بارگاہ میں موجود ہوں گے۔  انشا ء اللہ تعالیٰ

کمنٹس

کمنٹ لکھیں

براہ کرم نوٹ کریں، منظوری کے بعد کمنٹ شائع کیے جائیں گے۔