علامہ محمد اقبال(1878۔1938ء) ایک مسلمان ، مفکر،مذہبی روشن خیال ،شاعر اور سیاست مدار تھے۔ اقبال دین اسلام کو اسلامی تمدن سے الگ نہیں سمجھتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ تمدن کے تجدید کے بغیر دین کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔ ان کا یقین تھا کہ اسلام ایک ثقافت،تمدن اور دستور زندگی کے عنوان سے اسی صورت ہی باقی رہ سکتا ہے جب وہ زمانے کی تبدیلیوں کے ساتھ آگے بڑھے اور جدید علوم میں پیشرفت کرے۔ اقبال علم کلام میں نئے علوم کی بنیاد پر تحقیق ار فقہی مسائل کو زمانے اور ضرورت کے مطابق ان کا حل کرنے کو ضروری سمجھتے تھے۔ ان کی نظر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی مشکل اپنی شناخت کو کھودینا اور اسلامی تعلیمات سے دور ہونا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ مسلمان اس وقت اپنے وجود پر فخر کر سکتے ہیں جب وہ مسلمان علاقوں میں اسلام کے اصولوں کے مطابق الگ حکومت قائم کر سکیں۔ اقبال قرآن کو زندگی اور اسلام کی معتبر سند سمجھتے تھے اور پیغمبر اسلامؐ کے سچے عاشق تھے۔ انہوں نے پیغمبرؐ کی شان میں بہت سے اشعار کہے۔ اقبال اہل سنت تھے انہوں نے ]] حضرت علیؑ ]] اور حضرت فاطمہ کی شان میں بھی اشعار کہے ہیں۔ اقبال نے واقعہ کربلا کے بارے میں جو اشعار کہے ہیں ان میں امام حسینؑ کو ایسے شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہمیں قیامت تک استبداد سے رہائی دلائی اور اس تعبیر سے انہیں یاد کرتے ہیں «رمز قرآن ازحسین آموختیم »۔ اقبال نے فارسی اور اردود زبان میں بہت سے اشعار کہے۔ کچھ لوگ انہیں معاصر فارسی زبان کا بہترین شاعر سمجھتے ہیں۔ اقبال نے 1915ء میں فارسی منظوم کلام «اسرار خودی »اور اس کے تین سال بعد «رموز بی خودی »لکھی ااقبال کو تصوف سے بہت لگاو تھا۔ اقبال کے صوفیانہ اور عرفانی اصول عشق و محبت ،معتدل عرفانی سلوک، مادیت اور معنویت میں ٹکراو کے بغیر تھا۔